حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 284 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 284

حیات احمد ۲۸۴ جلد سوم حاجی صاحب تشریف لائے۔اور فرمایا میں عشاء کی نماز پڑھ رہا تھا اس واسطے دیر لگی۔بڑے شریفانہ طور سے خاطر تواضع کی۔حسب دستور سابق پیش آئے۔پان منگوایا۔حاجی صاحب کیسے تشریف لائے اور پھر رات کے وقت۔بہت روز میں ملاقات ہوئی آپ تشریف رکھیں۔چار پائی منگا تا ہوں۔نعمانی ( چونکہ ان سے بے تکلفی تھی عرض کیا کہ ) بیٹھنے کا تو یہ موقعہ نہیں ہے اس وقت کتابوں کی ضرورت ہے کوئی تفسیر یا حدیث کی آپ کے پاس ہو تو دے دیجئے تیسرے روز آپ کے پاس آپ کی کتابیں واپس آ جائیں گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔حاجی صاحب، کتاب تو کوئی میرے پاس نہیں ہے۔لیکن میں آپ کو ایک راہ بتلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مولوی سلیم الدین خاں صاحب کو چہ یکی ماراں کے قریب رہتے ہیں اور وہ آپ کے والد حضرت شاہ حبیب الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے دادا حضرت مخدوم احمد شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے واقف ہیں اور ان سے اعتقاد رکھتے ہیں ان کے پاس ہر قسم کی کتابیں ہزاروں کتا ہیں مطبوعہ اور قلمی قدیم وجدید موجود ہیں اور وہ فروخت بھی کرتے ہیں آپ ان کے پاس چلے جاویں میں ان کو رقعہ لکھ دیتا ہوں۔وہ کتابیں ضرور دے دیں گے۔لیکن اتنا کام کریں کہ حضرت مرزا صاحب کا وہاں کوئی ذکر نہ آوے۔آج کل طوفان بے تمیزی اور شور و نشر بر پا ہے۔حضرت مرزا صاحب کے ذکر خیر آنے پر کتابیں نہ دیں گے۔حاجی صاحب نے فوراً مجھے ایک یہ رقعہ لکھ کر دیا۔” مخدوم و مکرم جناب مولا نا مولوی سلیم الدین صاحب دَامَ عِنَايَتُكُمْ۔آپ کے پاس صاحبزادہ سراج الحق صاحب ابن حضرت شاہ حبیب الرحمن صاحب رحمتہ اللہ علیہ نعمانی و جمالی وسرساوی تشریف لاتے ہیں۔آپ کو اس وقت کچھ کتابوں کی ضرورت ہے جو کتاب طلب کریں مہربانی فرما کر دے دیں ، واپسی کا میں ذمہ دار ہوں آپ مطمئن رہیں۔والسلام - الراقم۔حاجی علیم اللہ عرف حاجی احمد جان نقشبندی ترابا بہرام خان۔کو چہ سعد اللہ خاں ہم دونوں اس رقعہ کو خوش خوش لے کر چلے اور مولوی صاحب کے مکان پر پہنچے دیکھا تو