حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 281
حیات احمد ۲۸۱ جلد سوم اپنے دل سے فتویٰ پوچھے کیونکہ دل بھی خدا نے ایک عجیب چیز بنایا ہے اور اس میں اپنی تجلی کی شعائیں رکھی ہیں۔خیر منشی صاحب کے فرمانے سے ہم امام صاحب کے گھر پر گئے آواز دی تو باہر آئے اور ہماری شکل دیکھ کر سہم گئے۔کانپ گئے۔اور چہرہ پھیکا ہو گیا۔اور منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بولے۔فرمائیے اس وقت رات کو کیا کام ہے؟ منشی صاحب۔کتابوں کی ضرورت ہے آپ نے وعدہ فرمایا تھا الْكَرِيْمُ إِذَا وَعَدَ وَفَا۔اب دے دیجئے۔دو تین روز میں انشاء اللہ آپ کی کتابیں آپ کے پاس آ جائیں گی۔امام صاحب! بھائی اب کیا کروں اب تو کل علماء اور عوام کا یہ مشورہ اور پختہ عہد ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کو کتابیں نہ دی جاویں اور ان کا کوئی اشتہار نہ چھاپا جاوے۔مجھے معاف فرمائیے میں ان سے الگ نہیں ہوسکتا اور کتا بیں بھی نہیں دے سکتا ہوں۔مجبور ہوں۔معذور ہوں۔آپ اس وقت چلے جائیں یہاں ٹھہر نا مناسب نہیں۔بات کرنی تو کیسی۔نعمانی۔بندہ خدا اس وقت ایمان کون دیکھ رہا ہے۔پوشیدہ دے دو۔اور پوشیدہ ہی تمہاری کتابیں تمہارے پاس پہنچ جائیں گی۔امام صاحب نے لرزتے ہانپتے کانپتے کہا کہ پوشیدہ اور چوری سے کام کرنا جائز ہے۔نعمانی۔اس میں چوری اور سرقہ کا کیا کام ہے۔یہ مسئلہ تو آپ منبر پر رونق افروز ہو کر بیان کریں۔کتابیں دینی ہوں تو دے دیجئے کتابوں کا بگڑتا کیا ہے۔امام صاحب تو بھر گئے اور بیہودہ باتوں پر آگئے پھر ہم دونوں وہاں سے چل دیئے۔نعمانی منشی صاحب دیکھا۔منشی صاحب۔ہاں دیکھ لیا یہ تو امام ہیں اور ڈرپوک ہیں۔ان کو اپنی امامت کا خطرہ ہے اس واسطے انہوں نے یہ روکھا پن کیا اور بد عہدی کی۔چلو مولوی محمد حسین کے بیٹے ایسا نہیں کریں گے۔وہ میرے دوست ہیں ان سے پوری امید ہے۔نعمانی۔اچھا صاحب چلئے۔پھر ہم دونوں مولوی صاحب مذکور کے مکان پر گئے۔منشی صاحب نے آواز دی اور وہ باہر لے ترجمہ۔جب کوئی معزز شخص وعدہ کرتا ہے تو اسے وفا بھی کرتا ہے۔