حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 277
حیات احمد ۲۷۷ جلد سوم بزرگ فرمانے لگے یہ اشتہار کہتا ہے جو موجود ہے۔اس میں کتاب کا نام صفحہ وسطر کا پتہ لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ قیامت کوئی چیز نہیں۔میں نے کہا یہ اشتہار مخالفوں کا ہے ان کو سوائے ایسے بہتانوں کے کچھ اور کام ہی نہیں۔یہ اشتہار جھوٹا ہے اور سراسر افترا ہے وہ بزرگ بولے کہ اس اشتہار میں ازالہ اوہام کا نام لکھا ہے وہ منگواؤ دیکھیں تو سہی بھلا یہ مولوی ہیں ایسا صریح اور کھلم کھلا جھوٹ کیوں بولنے لگے؟ میرے پاس ازالہ اوہام کتاب تھی اٹھا کر دے دی کہ اس اشتہار کے پتہ ونشان کے موافق آپ دیکھ لیں جہاں قیامت کا انکارلکھا ہے۔اُن بزرگ نے وہ کتاب دیکھی اس پتہ و نشان پر جو اشتہار میں درج تھا دیکھا تو کہیں وہاں قیامت کا ذکر بھی نہیں تھا۔پھر وہ بزرگ کہنے لگے کہ شاید صفحہ وسطر میں کاتب کی غلطی ہو ، میں نے کہا اگر اس پر آپ کو شبہ ہے تو ساری کتاب کو دیکھ جائیے ، سو انہوں نے نصف کتاب تو اسی وقت دیکھ لی اور پھر کہا کہ مجھ کو یہ کتاب دے دیں میں گھر پر دیکھوں گا مجھے تو یہ خواہش تھی کہ کسی طرح یہ تمام کتاب پڑھ لے۔بس وہ کتاب لے گئے دوسرے دن مشتہر کو گالیاں دیتے ہوئے آئے اور کہا کہ اب مجھ کو یقین ہو گیا کہ یہ مولوی جھوٹے ہیں۔ایک روز دہلی والے شرارت کی راہ سے حضرت اقدس علیہ السلام پر یورش کر کے کئی سو آدمی آگئے چونکہ دروازہ زینہ کا تنگ تھا اس لئے ایک ایک کر کے چڑھنے لگے اتنے میں سید امیر علی شاہ صاحب آگئے انہوں نے نہ آنے دیا۔وہ لوگ زور سے گھنے لگے مگر شاہ صاحب ایک قوی الجثہ تھے ان کے زور کو ان دہلی والوں کا زور کب پہنچ سکتا ہے ایک ہی دھکے میں سب ایک دوسرے پر گر پڑے اور فرار ہو گئے اور سوائے گالیاں، اور ٹھٹھا بازی کرنے کے اور کچھ نہ کر سکے۔ایک روز ایک نامراد بد بخت ہیرہ شاہ مرحوم کا بیٹا رحیم بخش فقیر آ گیا۔چونکہ میں ہیرہ شاہ کو جانتا تھا کہ وہ نہایت نیک بخت اور صالح آدمی تھا۔مگر وہ حضرت اقدس علیہ السلام کے دعوئی سے پیشتر گزر چکا تھا اور یہ رحیم بخش مجھ کو جانتا تھا میرے پاس آ گیا اور کہنے لگا اجی حضرت آپ کہاں؟ میں نے کہا میں یہیں ہوں۔تم بزرگ بزرگوں کی اولاد مرزا جی سے کیسے معتقد ہو گئے