حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 212 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 212

حیات احمد ۲۱۲ جلد سوم وو ” جب آپ اوائل ماہ جولائی ۱۸۹۱ء میں امرتسر پہنچے اور وہاں کے بعض معزز رؤسا نے آپ کو خاکسار سے مباحثہ کرنے پر مجبور کیا تو آپ نے اپنے خط اسمی مولوی احمد اللہ صاحب و خاکسار مورخہ ۷ار جولائی ۱۸۹۱ء میں یہ شرطیں پیش کیں۔“ یہ ایک واضح ثبوت اس امر کا ہے کہ آپ کا یہ سفر امرتسر لودھانہ جانے کے سفر کا آغاز اور پہلی منزل تھا پس حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا بیان اپنی جگہ صحیح ہے وہ اس واقعہ سے متعلق ہے اور حضرت میر عنایت علی صاحب کا بیان اپنی جگہ درست ہے اور وہ دوسرے واقعہ مباحثہ سے متعلق ہے۔عیسائیوں پر اتمام حجت آپ کی بعثت کا بڑا مقصد تو يَكْسِرُ الصَّلِيْب تھا اور لودھانہ پنجاب میں عیسائیت کا بہت بڑا گڑھ تھا۔نور افشاں اخبار وقتاً فوقتاً اسلام پر حملے کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا تھا اور حضرت اقدس ہمیشہ نور افشانی کے ایسے مضامین کا جواب دینا ضروری سمجھتے تھے۔جیسا کہ آپ کی تحریروں سے ظاہر ہے کہ اس وقت لودھانہ میں آپ کے طویل قیام میں عیسائی اس بات سے خوش تھے کہ حاشیہ۔موقع کی مناسبت کے لحاظ سے میں اپنے ایک ذوقی واقعہ کو بھی درج کر دینا ضروری سمجھتا ہوں مجھے عیسائیوں سے مباحثات کرنے کا شوق تھا۔اور میری فرصت کا وقت اس شغل میں گزرتا تھا۔مرحوم شیخ الہ دتا صاحب جلد ساز جورڈ نصاری میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔اس فن میں میرے استاد تھے۔میں نور افشاں با قاعدہ پڑھتا اور عیسائی واعظین سے چوڑا بازار کے چیپل میں روزانہ مباحثات کرتا۔حضرت مولوی ابو البقاء اور آپ کے بردار مکرم حضرت مولوی محمد اسماعیل رضی اللہ عنہ سے انہی ایام میں شناسائی ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعد میں اخوت صحیحہ کے رنگ میں تبدیل ہو گئی۔نور افشاں اور عیسائیت کے خلاف میں منشور محمدی اور ریاض ہند امرتسر میں مضمون بھی لکھتا تھا پادری سی پی نیوٹن جو نور افشاں کے ڈائریکٹر اور لودھانہ مشن کے انچارج تھے انہوں نے میرے خلاف ، کو توالی میں نقص امن کی رپورٹ کی کہ یہ ہمارے وعظ میں آ کر ہنگامہ کرتا ہے۔مجھے بلایا گیا اور دریافت کیا گیا تو میں نے کہا یہ باجا بجا کر گیت گا کر لوگوں کو جمع کرتے ہیں۔جلسہ عام ہوتا ہے لوگ سوال