حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 170
حیات احمد ۱۷۰ جلد سوم کوئی ایسی حدیث ( متعلق قصص ایام و اخبار) ہو کہ قرآن کریم کے سخت مخالف ہی پڑتی ہو تو وہ کتاب اللہ کو ہمہ وجوہ واجب الادب واجب التعظیم اور واجب التعمیل سمجھ کر اس حدیث کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔اور ٹھیک حضرت صدیقہ کی طرح جیسا کہ انہوں نے اس روایت کو إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ ۖ قرآن کی آیت وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى کے مقابلہ میں رڈ کر دیا تھا حضرت اقدس مرزا صاحب (جن کا اصلی مشن اور منصبی فرض قرآن مجید کی عظمت کا دنیا میں قائم کرنا اور اسی کی تعلیم کا پھیلانا ہے ) بھی ایسی مخالف ومعارض قرآن حدیثوں کو (اگر ہوں اور پھر جس کتاب میں ہوں ) قرآن کے مقابلہ میں بلا خوف لَوْمَةَ لائِم کے رڈ کر دیتے ہیں۔اے ناظرین! اے ناظرین! اے عاشقان کتاب رب العالمین اللہ سوچو اس اعتقاد میں کیا قباحت ہے؟ اس پر یہ کیسا ناشدنی ہنگامہ ہے جو ابنائے روز گار نے مچا رکھا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ نہیں ہوا گو با لصراحت چونکہ اس اصل متنازع فیہ مسائل میں گفتگو نہیں ہوئی نہ کہا جاسکے کہ تین فیصلہ ہوا۔مگر مرزا صاحب کے جوابات کے پڑھنے والوں پر پوری وضاحت سے کھل جائے گا کہ احادیث کی دو قسمیں کر کے دوسری قسم کی حدیثوں کو جو تعامل کی قوت سے تقویت یافتہ نہ ہوں اور پھر قرآن کریم سے معارضہ کرتی ہوں حضرت مرزا صاحب نے تردید کر کے درحقیقت امر متنازع فیہ کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے گویا صاف سمجھا دیا ہے کہ قرآن مجید صریح منطوق سے حضرت مسیح کی موت کی خبر دیتا ہے۔اور یہ ایک واقعہ ہے۔اب اگر کوئی حدیث نزول ابن مریم کی خبر دیتی ہو۔تو لا محالہ یہی سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مثیل مسیح کی خبر دیتی ہے اور اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہو گا جو بوجہ من الوجود قرآن سے تطبیق نہ دیا جا سکے تو وہ ضرورضرور رڈ کی جائے گی۔پس بہر حال قرآن کریم اکیلا بلا کسی منازع و حریف کے میدان اثبات دعوی میں کھڑا رہا اور حق بھی بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم يُعَذِّبُ الْمَيِّتُ بِبَعْضٍ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ - الانعام: ۱۶۵