حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 164 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 164

حیات احمد ۱۶۴ بیان صاحبزادہ سراج الحق صاحب جلد سوم پھر مولوی محمد حسین صاحب سے مباحثہ قرار پا گیا اور دن مباحثہ کا مقرر ہو کر مباحثہ کے لئے مولوی محمد حسن صاحب حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر آئے۔اور ساتھ مولوی محمد حسن صاحب اور سعد اللہ نومسلم اور پانچ سات اور شخص بھی آئے۔اور ایک سوال لکھ کر حضرت اقدس علیہ السلام کے آگے رکھ دیا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کا جواب لکھ دیا اور مجھ سے فرمایا کہ کئی قلم بنا کر میرے پاس رکھ دو۔اور جو ہم کہتے جائیں اس کی نقل کرتے جاؤ۔چنانچہ میں نقل کرنے لگا۔اور آپ لکھنے لگے۔جب سوال و جواب اس دن کے لکھ لئے گئے تو مولوی محمدحسن صاحب نے خلاف عہد زبانی وعظ شروع کر دیا اور بیان کیا کہ مرزا صاحب کا جو عقیدہ ہے کہ قرآن کریم حدیث پر مقدم ہے۔یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے بلکہ عقیدہ چاہئے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے۔اور قرآن شریف کے متعلق مسائل کو حدیث کھولتی ہے اور یہی فیصلہ کن ہے۔خلاصہ مولوی صاحب کی تقریر کا یہی تھا۔پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے چونکہ معاہدہ ہو چکا تھا کہ زبانی تقریر کوئی نہ کرے مولوی صاحب نے اس معاہدے کے خلاف تقریر کی ہے سو میرا بھی حق ہے کہ میں بھی کچھ تقریر زبانی کروں۔پھر اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا یہ عقیدہ کسی طرح صحیح اور درست نہیں ہے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے۔ناظرین ! سننے کے لائق یہ بات ہے کہ چونکہ قرآن شریف وحی متلو ہے۔اور تمام کلام مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمع ہو چکا تھا۔اور یہ کلام الہی تھا۔اور حدیث شریف کا ایسا انتظام نہیں تھا اور نہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھی گئی تھیں۔اور وہ مرتبہ اور درجہ جو قرآن شریف کو حاصل ہے۔وہ حدیث کو نہیں ہے۔کیونکہ یہ روایت در روایت پہنچی ہیں۔اگر کوئی شخص اس بات کی قسم کھاوے کہ قرآنِ شریف کا حرف حرف کلام الہی ہے اور جو یہ کلام الہی نہیں ہے تو میری بیوی پر طلاق ہے۔شرعاً اس کی بیوی پر طلاق وارد نہیں ہو سکتا اور جو حدیث کی نسبت قسم کھا لے۔اور