حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 144 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 144

حیات احمد ۱۴۴ جلد سوم دلوں پر سخت اثر پڑا۔اور عوام الناس کی تو یہ پہلے ہی سے عادت ہے کہ وہ اصل حقیقت پر غور کم کرتے ہیں اور ایک خود غرض یا کوتاہ فہم مولوی کے بیان کو فیصلہ ناطق سمجھ لیتے ہیں۔اسی ضرر رساں سیرت نے انہیں طرح طرح کے گڑھوں اور غاروں میں ڈال دیا ہے۔لہذا قرین مصلحت سمجھ کر کل مخالف الرائے علماء کے مقابل محض لِله اشتہار جاری کیا جاتا ہے کہ اگر ان کو اس عاجز کے ان دعاوی مذکورہ کے قبول کرنے میں کوئی عذر شرعی ہو یا وہ یہ خیال کرتے ہوں کہ اس عاجز کے یہ دعاوی قَالَ اللہ اور قَالَ الرَّسُول کے برخلاف ہیں تو وہ ایک عام مجلس کر کے تحریری طور پر اس عاجز سے مقاصد مذکورہ بالا میں مباحثہ کر لیں تاکہ جلسہ عام میں حق ظاہر ہو جائے اور کوئی فتنہ بھی پیدا نہ ہو کیونکہ مجرد زبانی بیانات میں انواع و اقسام کی خرابیوں کا احتمال ہے۔سو مناسب ہے کہ ان سب میں سے وہ مولوی صاحب جو کمالات علمی میں اول درجہ کے خیال کئے جائیں وہی فریق ثانی کی طرف سے اس مباحثہ کے لئے مختار مقرر ہوں اور فریق ثانی کے لوگ اپنے اپنے معلومات سے ان کو مدد دیویں اور وہ (وکیل صاحب) بذریعہ تحریر ان سب دلائل کو اس عاجز کے سامنے پیش کریں۔مگر مناسب ہے کہ بقیہ حاشیہ۔مباہلین کے گروہ میں داخل نہیں تو کیا وجہ؟ اور پھر وہ کونسی جماعت ہے جیسا کہ منشاء آیت کا ہے۔ان تمام امور کا جواب ہواپسی ڈاک ارسال فرما دیں۔اور میاں عبد الحق نے اپنے الہام میں جو مجھے جہنمی اور ناری لکھا ہے اس کے جواب میں مجھے کچھ ضرورت لکھنے کی نہیں ہے۔کیونکہ مباہلہ کے بعد خود ثابت ہو جائے گا کہ اس خطاب کا مصداق کون ہے۔لیکن جہاں تک ہو سکے۔آپ مباہلہ کے لئے کاغذ استفسار تیار کر کے مولوی صاحبين موصوفین کی مواہیر ثبت ہونے کے بعد وہ کاغذ میرے پاس بھیج دیں۔اگر اس میں کچھ توقف کریں گے یا میاں عبدالحق چپ کر کے بیٹھ جائیں گے تو گریز پر حمل کیا جائے گا اور واضح رہے اس خط کی چار نقلیں چار اخبار میں اور نیز رسالہ ازالہ اوہام میں چھاپ دی جائیں گی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور یکم رجب ۱۳۰۷ ھ م ۱۱ فروری ۱۸۹۱ء مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۴۲۴ تا ۴۲۸ مطبوعه ۶۲۰۰۸)