حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 131
حیات احمد ۱۳۱ جلد سوم مباہلہ دے رکھا تھا چاروں طرف سے ہنگامہ برپا تھا اور حضرت اقدس سب کو اپنے دعوی کی صداقت کی خاطر ہر مقابلہ اور امتحان کے لئے ان دعوتوں کو قبول کر رہے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب کے مباحثہ تک واقعات کے بیان کے بعد ان کا ذکر ہوگا۔غرض جب مولوی محمد حسین صاحب کی چادر میں محمد حسن صاحب نمودار ہوئے تو حضرت نے مولوی محمد حسن صاحب کے خطوط کا جواب دیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصِلَّى مخدومی و مکر می حضرت مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته یہ عاجز بسر و چشم تحریری گفتگو کے لئے موجود ہے۔اصول پیش کرنے کو بھی میں مانتا ہوں چند سوال آپ کی طرف سے چند سوال میری طرف سے ہوں اور امر مَبْحُوْث عَنْهُ وفات یا حیات مسیح ہو گا۔کیونکہ اس عاجز کا دعوی اسی بناء پر ہے۔جب بنا ٹوٹ جاوے گی تو یہ دعویٰ خود بخو دٹوٹ جاوے گا اصل امر وہی ہے۔اس وقت بارہ بجے تک مجھے باعث بعض نج کے کاموں کے بالکل فرصت نہیں بہتر ہے کہ آں مکرم عید کے بعد یعنی شنبہ کے دن کو بحث کے لئے مقرر کریں تا فرصت اور فراغت سے ہر ایک شخص حاضر ہو سکے۔خاکسار غلام احمد ورمئی ۱۸۹۱ء مکتوبات احمد یہ جلد ۲ صفحہ ۲۰ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۳۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)