حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 121 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 121

حیات احمد ۱۲۱ جلد سوم حضرت حکیم الامت کے اعتقاد میں کیا ہے حضرت حکیم الامت نے صاف صاف جواب مولوی صاحب کو دیا کہ وہ قرآن کریم کو مقدم سمجھتے ہیں اور بخاری کو اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ یقین کرتے ہیں مگر مولوی صاحب کے سوالات کا غیر ضروری سلسلہ دراز ہوتا گیا جن مخلصین نے آپ کو جس غرض کے لئے بلایا تھا انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب کے طریق بیان کو نا پسند کیا اور انہیں توجہ دلائی کہ اصل مسئلہ حیات و وفات مسیح پر گفتگو ہو۔مگر مولوی صاحب نے اس طرف آنے کی کوشش نہ کی اور یہ پہلو بچانا چاہا۔آخر ان دوستوں نے کہا کہ ہم نے جو کچھ سمجھنا تھا سمجھ لیا۔اس غیر ضروری مکالمہ کو طول دینے کی ضرورت نہیں اور حضرت حکیم الامت کولو دھانہ جانے کی اجازت دے دی اور حضرت حکیم الامت رات کی گاڑی سے لودہانہ (جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان ایام میں قیام فرما تھے ) تشریف لے گئے۔مولوی محمد حسین صاحب نے جھٹ حضرت کو تار دیا کہ آپ کا حواری بھاگ گیا ہے اسے واپس کر دیا آپ آؤ ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے۔حضرت نے اس کے جواب میں ایک من خط لکھا جس سے اس تبادلہ خیال کی پوری حقیقت معلوم ہوتی ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي از عایذ باللہ الصمد غلام احمد عافاه الله وایده بخدمت اخویم مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مفصل آپ کا تارجس میں یہ لکھا تھا کہ تمہارے وکیل بھاگ گئے ان کو لوٹا دیا آپ آؤ ور نه شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے، پہنچا۔اے عزیز! شکست اور فتح خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے فتح مند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے شکست دیتا ہے کون جانتا ہے کہ واقعی طور پر فتح مند کون ہونے والا ہے اور شکست کھانے والا کون ہے جو آسمان پر