حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 120
حیات احمد ۱۲۰ وَمَا أَقُولُ إِلَّا لِلَّهِ - وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار غلام احمد از لدھیانہ محلہ اقبال گنج ۱۴ مارچ ۹۱ء جلد سوم مکتوبات احمد یہ جلد ۴ صفحہ ۱۱ تا ۱۳۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۲۱ تا ۳۲۳ مطبوعہ ۶۲۰۰۸) لاہور میں تبادلہ خیالات کا جلسہ جیسا کہ میں حاشیہ میں ذکر کر آیا ہوں لاہور کے مخلصین کی ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ حضرت حکیم الامت کو بلا کر مولوی عبد الرحمن لکھو کے سے گفتگو کرائیں گے جو اس وقت لاہور میں موجود تھے اور مولوی محمد حسین کو بھی بلا لیں گے عبد الرحمن صاحب تو چلے گئے اور طے پایا کہ مولوی محمد حسین صاحب سے بالمشافہ تبادلہ خیالات کیا جائے چنانچہ ان بزرگوں نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بلایا اور کوچہ کوٹھی داران میں منشی امیرالدین صاحب مرحوم کے مکان پر ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔یہ دراصل ایک اہل علم اور سنجیدہ مزاج طالبانِ حق کا جلسہ تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بڑے طمطراق سے اپنے جگہ کو سنبھالتے ہوئے آئے۔وہ ہمیشہ بڑا دامن دراز جُبہ پہنا کرتے تھے اور پیچھے سے اٹھا کر کے ایک ہاتھ میں سنبھالے رکھتے تھے۔راقم الحروف تو مولوی صاحب سے بے تکلف واقف تھا اس جلسہ میں موجود تھا حضرت حکیم الامت اپنی سادہ وضع سے آئے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔اس جلسہ کی مطبوعہ روئداد میرے دفتر میں تھی افسوس ہے وہ انقلاب ۱۹۴۷ء میں غائب ہو گئی اور میں اپنے حافظہ کی بنا پر لکھ رہا ہوں مولوی محمد حسین صاحب نے اشاعۃ السنہ میں اسے چھاپ دیا تھا۔قصہ مختصر اس مناظرہ یا تبادلہ خیال کا آغا ز مولوی محمد حسین صاحب کے تمہیدی سوالات سے ہوا۔وہ ان سوالات سے حدیث کے متعلق بحث کرنا چاہتے تھے کہ مقام حدیث