حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 86
حیات احمد ۸۶ جلد دوم حصہ اوّل جس قوت اور شوکت کے ساتھ آپ نے ان مخالفین پر اتمام حجت کیا ہے وہ اس سارے اشتہار کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے آپ کو اپنی کامیابی اور مخالفین کے ناکام رہنے کا اس قدر بصیرت افروز یقین تھا کہ آخر میں انہیں خطاب کر کے کہا۔سچ سچ کہوا گر نہ بنا تم سے کچھ جواب پھر بھی یہ منہ جہاں کو دکھاؤ گے یا نہیں غرض ایک طوفان بے تمیزی بلند ہوا۔آپ نے اس کی پرواہ نہ کی اور کتاب کی مجلدات وقتا فوقتاً شائع ہوتی رہیں ان بیرونی مخالفین میں سے پادری جی ایل ٹھاکر داس اور بر ہموؤں میں سے پنڈت سیتا نند اگنی ہوتری نے براہین پر ریویو نگاری کے رنگ میں اعتراضات کئے اور آریوں میں سے مقتول لیکھرام نے تکذیب براہین احمدیہ کے نام سے ایک کتاب لکھی لیکن ان میں سے کسی کو یہ جرات اور حوصلہ نہ ہوا کہ وہ میدانِ مقابلہ میں آ کر براہین کے اعلان کے موافق فیصلہ کرتے۔میں جیسا کہ لکھ چکا ہوں براہین کے ریویوز کے لئے ایک الگ باب رکھتا ہوں اس لئے یہاں ان کے متعلق کچھ کہنا غیر ضروری ہے۔یہ بیان صرف اس حیثیت سے کیا جاتا ہے کہ براہین کی مخالفت میں اندر اور باہر سے ایک شور برپا ہوا لیکن اس شور نے آپ کی ہمت اور حوصلہ پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔نہ بیرونی مخالفوں کی قوت اور وسائل مخالفت کی وسعت مؤثر ہوسکی اور نہ اندرونی مخالفین کی عام مسلمین میں بدظنی اور بداعتقادی پیدا کرنے کے منصوبوں نے آپ کو شکستہ خاطر کیا۔جو شخص ان حالات پر جو اس وقت پیدا ہو گئے تھے غور کرتا ہے وہ یقیناً اس نتیجہ پر آتا ہے کہ یہ انسانی تدابیر کا کام نہیں تھا بلکہ اس کی پشت پر نصرت ربانی تھی۔