حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 82 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 82

حیات احمد ۸۲ جلد دوم حصہ اول اپنے تقدس اور عالمانہ شان کو قائم رکھنے کے لئے مخالفت کے اسباب مذہبی قرار دئے اور پھر گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے سیاسی وجوہات پیدا کر لی گئیں اور وہ مخالفت میں ترقی کرتے چلے گئے۔مذہبی نکتہ چینی کیا تھی اس کی تصریح میں اس وقت غیر ضروری سمجھتا ہوں مختصر یہ کہ وہ حضرت اقدس کے الہامات کو ادعائے نبوت قرار دیتے تھے (نبوت سے ایسی نبوت مراد ہے جو حامل شریعت ہو۔عرفانی ) اور اسی سلسلہ میں وہ بعض الہامات کی صرفی نحوی غلطیاں ( بخیال خویش) قرار دے کر ان کا انکار کرتے یا یہ کہ غیر ضروری زبانوں میں الہام ہوتے ہیں۔اس لود بانوی گروہ کی غرض اس مخالفت کے اعلان سے یہ تھی کہ حضرت اقدس کو ایک طرف عوام میں بدنام کریں اور مسلمان جو اُن کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اس سے روکیں اور دوسری طرف سیاسی رنگ میں بدنام کریں، گورنمنٹ کو اکسائیں۔پہلے مقصد کے لئے انہوں نے آپ کے خلاف فتوی کفر کی تجویز کی اور دوسرے مقصد کے لئے حکومت سے چغلیاں کھانی شروع کیں اور کہا کہ یہ کتاب براہین گورنمنٹ کے مخالف ہے چنانچہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعة السنه کی شہادت درج ذیل ہے۔لود بانوی حاسدین کی نکتہ چینی بعض حاسدین کو نہ اندیش (لودھیانہ کے مدعیان اسلام ) نے اس نکتہ چینی ( مذہبی۔عرفانی) کے علاوہ اس پر پولیٹیکل نکتہ چینی بھی کی ہے اور بوجہ شدت حسد و عناد و بغض فتنہ و فساد بعض لودھیانہ کے عوام میں یہ بات شائع کر دی ہے کہ یہ کتاب گورنمنٹ کی مخالف ہے اور اس کے مؤلف نے پیشوائی مذہب کے علاوہ پولیٹیکل سرداری کا بھی اس میں دعویٰ کیا ہے۔اپنے آپ کو مسیح قرار دیا ہے۔اور اپنے غلبہ اور فتح کی بشارتیں اور اپنے مخالفین کی شکست و ہزیمت کی خبریں اس میں درج کی ہیں اشاعۃ السنه جلدے نمبر ۶ پھر مولوی ابوسعید صاحب لود بانوی معاندین کی مخالفت کی وجوہات پر مزید روشنی اسی ریویو کے ایک حاشیہ میں اسی مقام پر یوں ڈالتے ہیں۔حملا حاشیہ۔مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے لودھانوی مخالفین کی مخالفت کے وجوہات و اسباب پر مزید روشنی اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر 1 کے اسی مقام کے متعلق ایک حاشیہ لکھ کر ڈالی ہے اس کے