حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 585 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 585

حیات احمد ۵۸۵ جلد دوم حصہ سوم میرے دعاوی کی آزمائش کر کے اپنی رائے کو بپایۂ صداقت پہنچا دیں۔تو اُن کی ناصحانہ تحریروں کے کچھ معنے ہوں گے۔اس وقت تک تو اس کے کچھ بھی معنے نہیں بلکہ اُن کی مجو بانہ حالت قابل رحم ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ آج کل کے عقلی خیالات کے پر زور بخارات نے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر دبا لیا ہے کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ انہیں خیالات پر زور دے رہے ہیں اور تکمیل دین و ایمان کے لئے انہیں کو کافی وافی خیال کرتے ہیں اور نا جائز اور ناگوار پیرایوں میں روحانی برکات کی تحقیر کر رہے ہیں۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تحقیر تکلف سے نہیں کرتے بلکہ فی الواقع ان کے دلوں میں ایسا ہی جم گیا ہے۔اور اُن کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے کیونکہ اُن کے اندر حقانی روشنی کی چمک نہایت ہی کم اور خشک لفاظی بہت سی بھری ہوئی ہے اور اپنی رائے کو اس قدر صائب خیال کرتے اور اُس کی تائید میں زور دیتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو روشنی حاصل کرنے والوں کو بھی اُس تاریکی کی طرف کھینچ لاویں۔ان علماء کو اسلام کی فتح صوری کی طرف تو ضرور خیال ہے مگر جن باتوں میں اسلام کی فتح حقیقی ہے۔ان سے بے خبر ہیں۔اسلام کی فتح حقیقی اس میں ہے کہ جیسے اسلام کے لفظ کا مفہوم ہے اُسی طرح ہم اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کے حوالہ کر دیں اپنے نفس اور اُس کے جذبات سے بکلی خالی ہو جائیں اور کوئی بت ہوا اور ارادہ اور مخلوق پرستی کا ہماری راہ میں نہ رہے۔اور بکلی مرضیات الہیہ میں محو ہو جائیں۔اور بعد اس فناء کے وہ بقا ہم کو حاصل ہو جائے جو ہماری بصیرت کو ایک دوسرا رنگ بخشے اور ہماری معرفت کو ایک نئی نورانیت عطا کرے اور ہماری محبت میں ایک جدید جوش پیدا کرے اور ہم ایک نئے آدمی ہو جائیں اور ہمارا وہ قدیم خدا بھی ہمارے لئے ایک نیا خدا ہو جائے۔یہی فتح حقیقی ہے جس کے کئی شعبوں میں سے ایک شعبہ مکالمات الہیہ بھی ہے اگر یہ فتح اس زمانہ میں مسلمانوں کو حاصل نہ ہوئی تو مجرد عقلی فتح انہیں کسی منزل تک پہنچا نہیں سکتی۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اس فتح کے دن نزدیک ہیں خدا تعالیٰ اپنی طرف سے یہ روشنی پیدا کرے گا اور اپنے ضعیف بندوں کا آمرزگار ہوگا۔