حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 49
حیات احمد ۴۹ جلد دوم حصہ اول شمس الدین آپ کے استاد زادہ تھے اور قادیان میں یہ لوگ قاضی تھے۔میاں شمس الدین فارسی کے اچھے عالم تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اخیر عمر تک اُن کی مدد کرتے رہے۔میاں شمس الدین کا ذکر حضرت کی سیرت اور سوانح میں دوسری جگہ بھی آیا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ان کے پسماندگان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذاتی اور خاندانی احسانات کا عملی شکریہ ادا کرنے کی بجائے کفرانِ نعمت کیا (خاکسار عرفانی میاں شمس الدین سے ذاتی طور پر واقف تھا اور ایک عرصہ تک وہ اس کے ہمسایہ رہے ) بہر حال میاں شمس الدین بہت خوشخط تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا خط اپنی حیثیت میں بہت پختہ اور ایک خاص شان رکھتا تھا۔لیکن آپ اس لحاظ سے کہ مبادا کاتب کو کاپی لکھتے وقت دقت ہو یا غلطیاں زیادہ ہوں۔میاں شمس الدین کو صاف کرنے کے لئے دے دیتے تھے۔اور میاں شمس الدین خوشخط لکھ کر لے آتے۔اور پھر وہ مسودہ صاف شدہ کا تب کے پاس جاتا تھا۔اس طرح پر براہین احمدیہ تصنیف ہو رہی تھی۔میں پہلے بتا آیا ہوں۔اور سب جانتے ہیں۔کہ قادیان اس وقت ایک گمنام گاؤں تھا۔یہاں علمی ترقی اور معلومات کے کوئی سامان اور اسباب نہ تھے۔ان حالات میں براہین جیسی کتاب کی تصنیف خدائی فعل ہے۔براہین کی طبع کا انتظام یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس وقت تک حضرت کو مطابع کے طریق کار سے کچھ واقفیت نہیں تھی۔آپ قادیان سے باہر نہ جاتے تھے۔اور نہ تصنیف واشاعت کتب آپ کا مشغلہ تھا۔یہ سب سے پہلی کتاب تھی جو آپ نے آسمانی تحریک کے ماتحت دینِ اسلام کی حمایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی صداقت کے اظہار کے لئے لکھنے کا ارادہ فرمایا۔آپ چاہتے تھے کہ یہ کتاب نہایت اعلیٰ درجہ کی کتابت و طباعت میں شائع ہو۔اس وقت تک آپ سوائے پادری رجب علی کے کسی دوسرے اہل مطبع سے واقف نہ تھے۔