حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 579
حیات احمد ۵۷۹ جلد دوم حصہ سوم آگئی اسی طرح یقیناً جاننا چاہیے کہ کسی دن وہ رعد بھی ظہور میں آ جائے گی جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹا دے گی اور جو جو اعتراضات غافلوں اور مردہ دلوں کے منہ سے نکلے ہیں اُن کو نابود اور ناپدید کر دے گی۔یہ الہام جو ابھی ہم نے لکھا ہے ابتدا سے صد ہا لوگوں کو بہ تفصیل سنا دیا گیا تھا۔چنانچہ منجملہ سامعین کے مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی بھی ہیں اور کئی اور جلیل القدر آدمی بھی اب اگر ہمارے موافقین و مخالفین اسی الہام کے مضمون پر غور کریں اور دقت نظر سے دیکھیں تو یہی ظاہر کر رہا ہے کہ اس ظلمت کے آنے کا پہلے سے جناب الہی میں ارادہ ہو چکا تھا جو بذریعہ الہام بتلایا گیا اور صاف ظاہر کیا گیا کہ ظلمت اور روشنی دونوں اس لڑکے کے قدموں کے نیچے ہیں یعنی اس کے قدم اٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے اُن کا آنا ضرور ہے۔سواے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا۔حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔بشیر کی موت نے جیسا کہ اس پیشگوئی کو پورا کیا۔ایسا ہی اس پیشگوئی کو بھی کہ جو ۲۰ فروری کے اشتہار میں ہے کہ بعض بچے کم عمری میں فوت ہوں گے۔بالآخر یہ بھی اس جگہ واضح رہے کہ ہمارا اپنے کام کے لئے تمام و کمال بھروسہ اپنے مولیٰ کریم پر ہے۔اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں یا نفاق اور ہمارے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں یا رڈ۔اور ہمیں تحسین کرتے ہیں یا نفرین بلکہ ہم سب سے اعراض کر کے اور غیر اللہ کو مردہ کی طرح سمجھ کر اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔گو بعض ہم میں سے اور ہماری ہی قوم میں سے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہمارے اس طریق کو نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں مگر ہم ان کو معذور رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو ہم پر ظاہر کیا گیا ہے وہ ان پر ظاہر نہیں۔اور جو ہمیں پیاس لگا دی گئی ہے۔وہ انہیں نہیں۔كُلَّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ * اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہل علم احباب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اِس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے کہ برکات روحانیہ و بنی اسرائیل: ۸۵