حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 559 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 559

حیات احمد ۵۵۹ جلد دوم حصہ سوم تھی۔ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنا دے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے۔كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِؤُوْنَ ، فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللَّهُ وَيَرُدُّهَا إِلَيْكَ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ۔أَنْتَ مَعِي وَ أَنَا مَعَكَ۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔سو خدائے تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔تمہارا مددگار ہو گا۔اور انجام کار اُس کی اُس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا۔جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گواوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے۔اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔اس جگہ ایک اور اعتراض نور افشاں کا رفع دفع کرنے کے لائق ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ الہام خدائے تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اور اس پر اعتماد کھی تھا۔تو پھر پوشیدہ کیوں رکھا۔اور کیوں اپنے خط میں پوشیدہ رکھنے کے لئے تاکید کی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا اور جن کے لئے یہ نشان تھا ان کو تو پہنچا دیا گیا تھا اور یقین تھا کہ والد اس دختر کا ایسی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا۔اس لئے ہم نے دل شکنی اور رنج دہی سے گریز کی۔بلکہ یہ بھی چاہا ا یہ الہام جو شرطی طور پر مکتوب الیہ کی موت فوت پر دلالت کرتا تھا۔ہم کو بالطبع اس کی اشاعت سے کراہت تھی بلکہ ہمارا دل یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس سے مکتوب الیہ کو مطلع کریں مگر اُس کے کمال اصرار سے جو اس نے زبانی اور کئی انکساری خطوں کے بھیجنے سے ظاہر کیا ہم نے سراسر کچی خیر خواہی اور نیک نیتی سے اُس پر یہ امر سر بستہ ظاہر کر دیا۔پھر اُس نے اور اُس کے عزیز مرزا نظام الدین نے اس الہام کے مضمون کی آپ شہرت دی۔منہ