حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 553
حیات احمد ۵۵۳ جلد دوم حصہ سوم پیشنگوئی کے محرکات اس پیشنگوئی کے دو محرکات ہوئے اور اصل تو ایک ہی تھا یعنی اس خاندان کی اصلاح اور اس پر اتمام حجت مگر ایک دوسرا محرک ایک خاندانی واقعہ ہو گیا میں اسے بھی خود حضرت ہی کے الفاظ میں لکھوں گا۔اس کو پورے طور پر سمجھنے کے لئے اتنا اضافہ کرتا ہوں کہ حضرت کے بیان میں جس غلام حسین کا ذکر ہے وہ حضرت کے چچا مرزا غلام حیدر مرحوم کا بیٹا تھا اور اس کے نکاح میں مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ امام بی بی نام تھیں اس کی وفات پر ہی وہ تحریک ہوئی جس کا ذکر حضرت نے کیا ہے۔نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے۔نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔اب حال کے بندوبست میں جوضلع گورداسپور میں جاری ہے۔نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور هبه منتقل کرا دیں چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔چونکہ وہ هبه نامه بجز ہماری رضا مندی کے بریکار تھا اس لئے مکتوب الیہ نے بتمامتر عجز وانکسار ہماری طرف رجوع کیا تا ہم اس هبه پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔جناب الہی میں استخارہ کر لینا چاہئے سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا۔جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔