حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 508 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 508

حیات احمد ۵۰۸ جلد دوم حصہ سوم میں ساتھ رہا۔حیدر آباد میں ویب صاحب نے مجھ سے کہا کہ جناب مرزا غلام احمد صاحب کا مجھ پر بڑا احسان ہے انہیں کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوا۔میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔مرزا صاحب کی بدنامی وغیرہ کا جو قصہ میں نے سنا تھا۔ان کو سنایا۔ویب صاحب نے حضرت مرزا صاحب کو ایک خط لکھوایا۔جس کا جواب آٹھ صفحہ کا حضرت نے لکھ کر بھیجا اور مجھ کو لکھا کہ لفظ بہ لفظ ترجمہ کر کے ویب صاحب کو سنا دینا چنا نچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ویب صاحب نہایت شوق وادب کے ساتھ حضرت اقدس کا خط سنتے رہے۔خط میں حضرت نے اپنے اس دعوی کو مع دلیل کے لکھا تھا۔پنجاب کے علماء کی مخالفت اور عوام میں شورش کا تذکرہ تھا۔حضرت نے یہ بھی لکھا تھا کہ مجھ کو بھی تم سے ( یعنی ویب صاحب سے ملنے کی بڑی خواہش ہے۔ویب صاحب حاجی عبد اللہ عرب اور میری ایک کمیٹی ہوئی کہ کیا کرنا چاہئے۔رائے یہی ہوئی کہ مصلحت نہیں ہے کہ ایسے وقت میں کہ ہندوستان میں چندہ جمع کرنا ہے۔ایک ایسے بدنام شخص سے ملاقات کر کے اشاعت اسلام کے کام میں نقصان پہنچایا جائے۔اب اس بد فیصلہ پر افسوس آتا ہے۔ویب صاحب لاہور گئے۔تو اسی خیال سے قادیان نہ گئے۔لیکن بہت بڑے افسوس کی بات یہ ہوئی کہ ایک شخص نے ویب صاحب سے پوچھا کہ آپ قادیان حضرت مرزا صاحب کے پاس کیوں نہیں جاتے۔تو انہوں نے یہ گستاخانہ جواب دیا کہ قادیان میں کیا رکھا ہوا ہے۔لوگوں نے ویب صاحب کے اس نامعقول جواب کو حضرت اقدس تک پہنچا دیا۔غرض ہندوستان کے مشہور شہروں کی سیر کر کے ویب صاحب تو امریکہ جا کر اشاعت اسلام کے کام میں سرگرم ہو گئے۔دو ماہ تک میں ویب صاحب کے ساتھ رہا۔ویب صاحب حقیقت میں آدمی معقول ہے۔اور اسلام کی سچی محبت اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے۔مجھ سے جہاں تک ہو سکا۔اُن کے معلومات بڑھانے۔خیالات کج کو درست کرنے اور مسائل ضروری کی تعلیم میں کوشش کی۔اور شیخ محمد میرا ہی رکھا ہوا نام ہے۔