حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 474
حیات احمد ۴۷۴ جلد دوم حصہ سوم لے کر اس کے پیچھے پھرتے رہے اور پھر جب مقابلہ کے لئے اس کو بلایا گیا یا قرآن مجید اور دید کے مقابلہ کے لئے بلایا گیا تب بھی اسے جرات نہ ہوئی کہ وہ سامنے آتا لیکن اس اشتہار پر جو پسر مصلح موعود کی پیدائش کے متعلق دیا گیا اور اس میں اس کے ظہور کی مدت نو سال قرار دی گئی تو بقیہ حاشیہ۔کوشک نہیں رہ سکتا۔اور اگر شک ہو تو ایسی قسم کی پیشگوئی جو ایسے ہی نشان پر مشتمل ہو پیش کرے۔اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے۔جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے۔اور در حقیقت یہ نشان ایک مُردہ کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ اعلیٰ واولیٰ و اکمل و افضل واتم ہے۔کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت بائیل میں لکھا گیا ہے۔جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے اور پھر باوصف ان سب عقلی و نقلی جرح و قدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مر وہ صرف چند منٹ کے لئے زندہ رہتا تھا اور پھر دوباہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت ہو جاتا۔جس کے دنیا میں آنے سے نہ دنیا کو کچھ فائدہ پہنچتا تھا نہ خود اس کو آرام ملتا تھا۔اور نہ اس کے عزیزوں کو کوئی سچی خوشی حاصل ہوتی تھی۔سو اگر مسیح علیہ السلام کی دعا سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی۔تو در حقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر تھا۔اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی بھی رہتی تب بھی ایک ناقص روح کسی رزیل یا دنیا پرست کی جو اَحَدٌ مِّنَ النَّاس ہے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی۔مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانه و برکت حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدواند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی با برکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا۔جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سواگر چہ بظاہر یہ نشان اِحْيَاءِ مَوْتی کے برابر معلوم ہوتا ہے۔مگر غور سے معلوم ہوگا کہ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔مردہ کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے۔اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے۔بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے۔کہ ایسا کیوں ہوا۔اے لوگو! میں کیا چیز ہوں اور کیا حقیقت۔جو کوئی مجھ پر حملہ کرتا ہے وہ درحقیقت میرے پاک متبوع پر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے حملہ کرنا چاہتا ہے۔مگر اس کو یا درکھنا چاہئے کہ وہ آفتاب پر خاک نہیں ڈال سکتا۔بلکہ