حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 39
حیات احمد ۳۹ جلد دوم حصہ اوّل کتاب کی تصنیف کے متعلق حضرت کو کوئی خط لکھا ہو اور اس میں اعانت کتاب کا وعدہ کیا ہے حضرت نے اس کے جواب میں جو خط لکھا اس میں دلائل یا مضامین وغیرہ کے بھیجنے کا ذکر بھی کیا۔(دیکھو فقرہ نمبرا) لیکن فقرہ نمبر ۲ سے ظاہر ہے کہ وہ مضمون یا اس خط کا جواب تک بھی مولوی صاحب نے نہیں دیا جیسا کہ صاف لکھا ہے: آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی پراب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچا پھر فقرہ نمبر ۳ قارئین کرام کی توجہ طلب ہے اس میں کتاب براہین کی تالیف کا ذکر ہے اور مولوی صاحب اگر کوئی مضمون لکھیں تو اس کے درج کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن کسی طرح صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب وزینت بخشوں“۔اس کا مطلب صاف ہے کہ بطور حاشیہ کے اس پر خود بھی کچھ لکھوں گا۔چنانچہ فقرہ نمبرے میں صراحت ہے کہ: اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دوں گا“ پھر فقرہ نمبر ۸ میں ان کی مرضی پر چھوڑا۔اور اصلی حقیقت یہ ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب کو اس خط و کتابت کی بنا پر کچھ لکھنے کی توفیق نہیں ملی۔خود ان مکتوبات کے اندرونی شواہد ایسے زبردست ہیں کہ کسی محقق کے لئے انکار کی گنجائش نہیں۔مولوی چراغ علی صاحب اگر کوئی مضمون لکھتے تو حضرت اسے حاشیہ میں ضرور درج کر دیتے یا بطور ضمیمہ وہ اصل کتاب کا جز و قرار دیکر اسے شائع نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ آپ کے مکتوبات سے ظاہر ہے۔مولوی چراغ علی صاحب اگر کچھ بھی لکھتے تو حضرت اقدس کی شکور فطرت اس کے اظہار سے مضائقہ نہ کرتی نواب اعظم یار جنگ کی نہایت حقیر امداد کا جو انہوں نے کتاب کی خریداری کی