حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 451
حیات احمد ۴۵۱ شیخ مہر علی اور حضرت اقدس کے تعلقات جلد دوم حصہ سوم شیخ مہر علی صاحب ہوشیار پور کے ایک ممتاز خاندان کے رکن تھے اس خاندان کے ساتھ حضرت اقدس کے خاندان کے دیرینہ تعلقات تھے۔نواب امام الدین مرحوم کشمیر کے ایک باختیار حاکم تھے اور حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم جن ایام میں کشمیر میں تھے اس بقیہ حاشیہ۔ملنے والے لوگ بھی مہمان آئے۔انہی دنوں میں مرلی دھر سے آپ کا مباحثہ ہوا۔جو سرمہ چشم آریہ میں درج ہے۔جب دو مہینے کی مدت پوری ہو گئی تو حضرت صاحب واپس اسی راستہ سے قادیان روانہ ہوئے۔ہوشیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے جہاں کچھ باغیچہ سالگا ہوا تھا۔وہاں پہنچ کر حضور تھوڑی دیر کے لئے پہلی سے اتر آئے اور فرمایا یہ عمدہ سایہ دار جگہ ہے یہاں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں۔اس کے بعد حضور قبر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی پیچھے پیچھے ساتھ ہو گیا اور شیخ حامد علی اور فتح خان بہلی کے پاس رہے۔آپ مقبرہ پر پہنچ کر اس کا دروازہ کھول کر اندر گئے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور تھوڑی دیر تک دعا فرماتے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا ” جب میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دو زانو ہوکر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ ساتھ نہ ہوتے تو میں ان سے باتیں بھی کر لیتا۔ان کی آنکھیں موٹی موٹی ہیں۔اور رنگ سانولا ہے۔پھر کہا کہ دیکھو اگر یہاں کوئی مجاور ہے تو اس سے ان کے حالات پوچھیں۔چنانچہ حضور نے مجاور سے دریافت کیا اس نے کہا میں نے ان کو خود نہیں دیکھا کیونکہ ان کی وفات کو قریباً ایک سوسال گزر گیا ہے۔ہاں اپنے باپ یا دادا سے سنا ہے کہ یہ اس علاقہ کے بڑے بزرگ تھے اور اس علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا۔حضور نے پوچھا ان کا حلیہ کیا تھا؟ وہ کہنے لگا کہ سنا ہے سانولا رنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں۔پھر ہم وہاں سے روانہ ہو کر قادیان پہنچ گئے۔خاکسار نے میاں عبداللہ صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت صاحب اس حکوت کے زمانہ میں کیا کرتے تھے اور کس طرح عبادت کرتے تھے؟ میاں عبداللہ صاحب نے جواب دیا کہ یہ ہم کو معلوم نہیں کیونکہ آپ اوپر بالاخانہ میں رہتے تھے۔اور ہم کو اوپر جانے کا حکم نہیں تھا۔کھانے وغیرہ کے لئے جب ہم اوپر جاتے تھے تو اجازت لے کر جاتے تھے۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دن جب میں کھانا رکھنے اوپر گیا تو حضور نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے بُوْرِكَ مَنْ فِيْهَا وَمَنْ حَوْلَها اور حضور نے تشریح فرمائی کہ مَنْ فِيْهَا سے میں مراد ہوں اور مَنْ حَوْلَهَا سے تم لوگ مراد ہو۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ 66