حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 442 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 442

حیات احمد ۴۴۲ (۳)۱۸۸۵ء جلد دوم حصہ سوم ” میں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں اور منتظر ہوں۔کہ میرا مقدمہ بھی ہو۔اتنے میں جواب ملا اصْبِرُ سَنَفْرُعُ يَا مِرْزَال (۴) ۱۸۸۵ء پھر ایک بار دیکھا کہ کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت میں عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے اور ایک سررشتہ دار کے ہاتھ میں ایک مثل ہے۔جو وہ پیش کر رہا ہے۔حاکم نے مثل دیکھ کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے غور سے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک خالی کرسی ہے مجھے اس پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ہے۔اور پھر میں بیدار ہو گیا۔“ الحکم جلد سے نمبر ۵ صفحه ۱۴ پر چهے فروری ۱۹۰۳ ء والبدر جلد ۲ صفحه ۴۲ پر چه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء) (۵) ۵/اگست ۱۸۸۵ء مرزا امام الدین و نظام الدین کی نسبت مجھے الہام ہوا کہ اکتیس ماہ تک ان پر ایک سخت مصیبت پڑے گی یعنی ان کے اہل وعیال و اولاد میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہو جائے گا جس سے ان کو سخت تکلیف اور تفرقہ پہنچے گا۔آج ہی کی تاریخ کے حساب سے جو تئیس ساون 66 سم ۱۹۴۲ مطابق ۵/ اگست ۱۸۸۵ء ہے۔یہ واقعہ ظہور میں آئے گا۔مرقوم ۵/اگست ۱۸۸۵ء “ اعلان مورخه ۲۰ / مارچ ۱۸۸۵ء) تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۱۰۲۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۲۵ بار دوم ) لے ترجمہ۔مرزا ! ذرا ٹھہر وہم ابھی فارغ ہوتے ہیں۔( تذکرہ صفحہ ۱۰۲ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) ے عین اکتیسویں مہینہ کے درمیان مرزا نظام الدین کی دختر یعنی مرزا امام الدین کی بھتیجی بعمر سال ایک بہت چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہوگئی۔اعلان مورخه ۲۰ مارچ ۱۸۸۵ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۱۰۲)