حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 439 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 439

حیات احمد ۴۳۹ جلد دوم حصہ سوم جس بیان کو حضرت اقدس کی طرف منسوب کیا گیا ہے میں اس کو صحیح نہیں سمجھتا اور ڈاکٹر صاحب نے اس کی کوئی سند بھی پیش نہیں کی میں کیوں صحیح نہیں سمجھتا اول یہ کہ خود حضرت حکیم الامت نے اپنا خواب متعدد مرتبہ بیان کیا اس کے ساتھ ہی یہ بتایا کہ جب حضور میرے کان میں بتانا چاہتے تھے تو ( حضرت ) خلیفہ نورالدین جمونی ( رضی اللہ عنہ ) سے کوئی شخص جھگڑا کر رہا تھا اس جھگڑے کی آواز سے میں بیدار ہو گیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ با ہمی جھگڑے اور تکرار بڑی نعمتوں سے محروم کر دیتے ہیں۔دوم۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو لوگوں سے خود بخو د دریافت کرتے اور اس کی تعبیر بھی فرماتے اور اپنے خواب بھی بیان کرتے۔سوم۔آپ نے اپنے تعلقات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار کمال محبت و یکتائی کا بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ میں نے بعض احادیث کو خود آپ سے دریافت کیا ہے چنانچہ ایک شعر میں فرماتے ہیں ؎ آن یکے جدید حدیث پاک تو از زید و عمر و آن دگر خود از دهانت بشنود بے انتظار چہارم۔سوال اس قسم کا نہ تھا کہ اس کا جواب اس رنگ میں دیا جاتا پھر اس شخص کو جس کو آپ آيَةٌ مِّنْ آيَاتِ اللَّهِ اور اپنی دعا کہتے ہیں۔پنجم۔خود حضرت حکیم الامۃ کی عادت اور طریق عمل کے خلاف ہے آپ حضرت سے کوئی سوال نہ کرتے تھے بہر حال مجھے اس کے ماننے میں تامل ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ بہر حال اس طرح پر حضرت حکیم الامہ کو حضرت اقدس سے ارادت و عقیدت کا سلسلہ شروع ہوا اور اس میں اس قدر ترقی ہوئی کہ آپ کو وہ مقام حاصل ہوا کہ حضرت نے لکھا کا ترجمہ۔ایک تو تیری پاک باتیں زید و عمر کے پاس جا کر تلاش کرتا ہے اور دوسرا بلا توسط تیرے منہ سے ان کو سنتا ہے۔