حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 438 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 438

حیات احمد ۴۳۸ جلد دوم حصہ سوم کیا اور آپ نے بتایا ہے کہ میں اس طرح گویا دعا کرتا تھا جیسے حضور سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو سید نا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بشارت دی اور عجیب بات ہے کہ خود حضرت حکیم الامت بھی اس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں۔حضرت حکیم الامت کے کمالات اور فضائل پر اس مقام پر حضرت نے بہت کچھ لکھا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام کے اس بیان میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’” جب وہ میرے پاس آئے مجھ سے ملاقات کی اور میری نظر ان پر پڑی تو میں نے انہیں آیات اللہ میں سے ایک آیت پایا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ میری دعا ہے جو میں ہمیشہ کرتا تھا۔“ غرض اندرمن کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید اور نصرت کا نشان دکھایا اور مقاصد بعثت کی تکمیل اور نصرت کے لیے حضرت حکیم الامت جیسے جلیل القدر انسان کو آپ کی خدمت میں پہنچا دیا۔حضرت حکیم الامت کی آمد پر مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم نے جو بیان لکھا ہے اس پر مجھے تنقید مطلوب نہیں لیکن ایک بات جو انہوں نے لکھی ہے اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا ایک بیان ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت سے پہلی ملاقات کے بعد گویا صبح کی سیر میں آپ نے حضرت اقدس سے عرض کیا :۔ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا تو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے دریافت کیا کہ حضور کیا وجہ ہے کہ ابو ہریرہ کو آپ کی اتنی حدیثیں یاد تھیں آپ اس کی وجہ میرے کان میں بتانے کے لئے آگے کو جھکے اور میں ہمہ تن گوش تھا کہ کسی نے مجھے جگا دیا اور بات بیچ ہی میں رہ گئی اس وقت سے خلش ہے کہ وہ کیا وجہ تھی جسے میرے کان میں حضور صلم بتانا چاہتے تھے اس پر حضرت مرزا صاحب نے فرمایا۔نہ شبم نه شب پر ستم کہ حدیث خواب گوئم هم از آفتاب هستم هم آن آفتاب گوئم * ترجمہ۔نہ میں رات ہوں نہ ہی رات کی پرستش کرتا ہوں کہ خواب کے بارہ میں بیان کروں میں تو سورج سے تعلق رکھتا ہوں تو اسی سورج کی بابت بیان کروں گا۔