حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 35 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 35

حیات احمد ۳۵ جلد دوم حصہ اوّل براہین احمدیہ کی تصنیف کے متعلق ایک معترض کا اعتراف اپنے مضامین کی قوت اور اسلوب بیان کی ندرت کے لحاظ سے بے نظیر اور لا جواب تصنیف ہے جیسا کہ میں آگے چل کر بیان کروں گا۔اس کتاب کے متعلق اس زمانہ کے بہت بڑے ریویو نگار مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ میں ریویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہوئی۔اور آئندہ کی خبر نہیں۔لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِكَ أَمْرًا۔اس کا مؤلّف بھی اسلام کی مالی و جانی قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔“ (اشاعة السنه نمبر ۶ جلدے صفحہ ۱۶۹) براہین احمدیہ ۱۸۸۴ء تک چاروں جلدیں شائع ہو گئیں۔مخالفین نے بھی اس کے متعلق جو کچھ چاہا لکھا مگر کسی شخص کو یہ لکھنے کی کبھی جرات نہیں ہوئی کہ اس کتاب کی تصنیف میں کسی اور کا کچھ بھی دخل تھا لیکن چند سال ہوئے حیدر آباد دکن میں اَعْظَمُ الْكَلَامِ فِي ارْتِقَاءِ الْإِسْلَامِ “ کے نام سے ایک کتاب مولوی چراغ علی صاحب اعظم یار جنگ کی ایک انگریزی تالیف کا ترجمہ شائع ہوا۔مترجم مولوی عبد الحق صاحب بی۔اے علیگ نے اس کا ایک مقدمہ بھی لکھا جس میں نواب اعظم یار جنگ کے حالات زندگی بھی لکھے۔اس مقدمہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض مکتوبات کا خلاصہ دے کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ : ”مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی۔“ اعظم الكلام فی ارتقاء الاسلام حصہ دوم صفحہ ۲۶ ایڈیشن اول مطبوعہ ۱۹۱۰ ء مطبع مفید عام آگرہ) مولوی عبدالحق صاحب نے نتیجہ نکالنے میں بہت عجلت سے کام لیا۔اگر وہ خودان مکتوبات کے اندرونی شواہد ہی پر غور کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ ان کا نتیجہ صحیح نہیں۔میں اسے غلط نہی نہیں کہوں گا۔بلکہ اسے علمی بد دیانتی سمجھتا ہوں۔