حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 34
حیات احمد ۳۴ جلد دوم حصہ اوّل دوم حاشیہ در حاشیہ نمبر۲ میں اس حصہ کے صفحہ ۲۶۸ پر نور افشان ۳ / مارچ ۱۸۸۲ء کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے اس سے یہ ظاہر ہے کہ بہر حال یہ تحریر ۳ مارچ ۱۸۸۲ء کے یقیناً بعد کی ہے یہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ صفحہ ۳۰۶ تک چلا گیا ہے۔سوم صفحه ۳۴۹ حاشیہ نمبر 1 میں پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کے اخبار دھرم جیون جنوری ۱۸۸۳ء میں شائع کردہ اعتراضات کا جواب دیا ہے اور یہ حاشیہ نمبر 11 حصہ سوم کے شروع سے ہی شروع ہو جاتا ہے (صفحہ ۱۴۶ حصہ سوم ) اور حصہ چہارم کے اخیر تک برابر چلا جاتا ہے۔کم از کم یہ ضرور اس سے پایا جاتا ہے کہ یہ صفحہ ۳۴۹ جنوری ۱۸۸۳ء کے بعد لکھا گیا ہے۔چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ صفحه ۴۷۵ پر یکم اپریل ۱۸۸۳ء کا ایک واقعہ درج ہے۔غرض اس طرح پر متعدد مقامات پر بعض تاریخوں کے حوالے آتے ہیں ان سب پر به هیئت مجموعی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۷۹ء میں یہ سب مسودہ تیار نہ تھا۔بالآخر اس امر کے متعلق میں پھر صراحت کر دینا چاہتا ہوں کہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی تحقیقات کو غلط نہیں ٹھہراتا۔میں نے جو کچھ بیان کیا ہے اسے اپنی تحقیقات کے رنگ میں لکھا ہے بظاہر ایک شخص کو اس میں اختلاف نظر آئے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی گنجائش نہیں۔آسان تاویل یہ ہے کہ متن آپ نے لکھ لیا اور جب مسودہ مبیضہ ہو کر کا تب کے سپرد ہونے لگا تو حواشی کا اضافہ جو بجائے خود ایک مستقل مضمون ہے لکھا گیا۔اس تصریح کے بعد دونوں تحقیقاتیں بجائے خود درست ہیں۔اسی سلسلہ میں اتنا اور ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ میں نے مکرمی صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب مصنف قاعده يسرنا القرآن سے حضرت اقدس کے طریق عمل کے متعلق دریافت کیا اس لئے کہ وہ سالہا سال تک حضرت کے خوشنویس رہے۔پیر صاحب نے میرے استفسار کے جواب میں نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ منشی کرم علی صاحب کا تب کی تائید و تصدیق سے لکھا ہے کہ حضرت اقدس کا یہ طریق ہرگز نہ تھا کہ وہ کتاب کا مسودہ تیار کر کے رکھیں بلکہ ساتھ ساتھ تحریر فرمایا کرتے تھے (مفہوم خط پیر صاحب)۔