حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 409 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 409

حیات احمد ۴۰۹ منشی اندرمن کا مقابلہ میں آنا جلد دوم حصہ سوم مگر آریہ سماج میں اس اعلان نے ایک زلزلہ پیدا کر دیا اور سب سے پہلے منشی اندرمن مراد آبادی نے آزمائش کے لئے آنے کا اعلان کیا۔قبل اس کے کہ اس مقابلہ کے ضروری کوائف درج کئے جاویں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ منشی اندر من مراد آبادی کے متعلق ایک مختصر اور اجمالی ذکر کیا جاوے۔منشی اندر من مراد آباد کے رہنے والے تھے اور اس زمانہ کے رواج کے موافق انہوں نے فارسی زبان میں اپنی تعلیم کی تکمیل کی تھی اسی سلسلہ میں کسی قدر عربی سے بھی آشنا تھے اگر چہ اس وقت اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق عربی زبان کے ماہر کہلانے لگے۔اس شخص کی اسلام دشمنی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ اس نے اسلام کے خلاف نہایت گندہ دہنی سے کام لیا اردو اور فارسی میں بعض تالیفات شائع کیں جن کو گورنمنٹ وقت نے ضبط کیا اور آخر اُس پر مقدمہ سرکاری طور پر چلایا گیا اور وہ مستحق سزائے جرمانہ ٹھہرا۔۱۸۶۹ء کے قریب اس کی کتابوں کو شری بانی آریہ سماج (سوامی دیانند ) نے بھی سنا جیسا کہ پنڈت ہر دے نارائن کول دتاتریہ وکیل کان پور کے بیان سے معلوم ہوتا ہے جس کو پنڈت لیکھرام صاحب نے سوانح عمری میں بیان کیا ہے اس کے بعد سے منشی اندر من مراد آبادی کے تعلقات شری سوامی جی سے بڑھے۔اور ہر مرحلہ پر وہ سوامی جی کی امداد اور سر پرستی سے فائدہ اٹھاتے رہے اور آریہ سماج سے ان کے تعلقات استوار ہوتے گئے اور آخر ان کو آریہ سماج مراد آباد کا سوامی جی نے صدر بنا دیا۔نہ صرف یہ بلکہ ان کو آپ نے اس ٹرسٹ کا ایک رکن نامزد کر دیا جو آپ کی وفات کے بعد آپ کی جائیداد کا انتظام کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور پھر ایک پریس اشاعت کے لئے قائم کر نیکی تحریک کی جو منشی اندرمن کے زیر انتظام چلایا جاتا اس کے لئے پانچ ہزار کے سرمایہ کی اپیل کی یہ پریس مراد آباد ہی میں قائم کیا جا رہا تھا اس غرض کے لئے خود سوامی جی نے تحریک کے لئے خطوط لکھے۔غرض منشی اندر من سوامی جی کی سر پرستی میں شہرت اور مالی کشائش کے مزے اڑا رہے تھے