حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 382 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 382

حیات احمد ۳۸۲ جلد دوم حصہ سوم سب کنبہ مخالف تھا۔(اس وقت تک شادی کی ہی وجہ سے غالباً) دو چار خادم مرد تھے اور پیچھے سے ان بیچاروں کی بھی گھر والوں نے روٹی بند کر رکھی تھی گھر میں عورت کوئی نہ تھی۔صرف میرے ساتھ ”فاطمہ بیگم تھیں اور وہ کسی کی زبان نہ سمجھتی تھیں۔نہ ان کی کوئی سمجھے شام کا وقت تھا بلکہ رات تھی جب ہم پہنچے، تنہائی کا عالم ، بیگانہ وطن۔میرے دل کی عجیب حالت تھی۔اور روتے روتے میرا بُرا حال ہو گیا تھا نہ کوئی اپنا تسلی دینے والا۔نہ منہ دھلانے والا ، نہ کھلانے پلانے والا ، کنبہ نہ ناطہ۔اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اتری۔کمرے میں ایک کھتری چار پائی پڑی تھی۔جس کی پائینتی پر ایک کپڑا پڑا تھا اس پر تھکی ہاری جو بڑی ہوں تو صبح ہوگئی۔سیہ اس زمانہ کی ملکہ دو جہاں کا بستر عروسی تھا اور سسرال کے گھر میں پہلی رات تھی۔مگر خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہ رہے تھے۔کہ اے کھتری چار پائی پر سونے والی پہلے دن کی دلہن ! دیکھ تو سہی دو جہان کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہوگی بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے خادموں سے لگے ہوں گے۔انشاء الله اگلی صبح حضرت مسیح موعود نے ایک خادمہ کو بلوا دیا اور گھر میں آرام کا سب بندو بست کر دیا۔“ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خود حضرت ام المومنین کی سیرت کے متعدد پہلو نمایاں ہیں۔مگر میں نے اسے اس لئے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے والد ماجد کی وفات سے قبل اطلاع وفات کے ساتھ جو الہام ہوا تھا أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اور اس شادی کے متعلق جو بشارت ملی تھی کہ ہر چه باید نو عروسی را ہماں سامان کنم وانچہ مطلوب شما باشد عطائے آن کنم ترجمہ:۔جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہو گا تمام سامان اُس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔