حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 381
حیات احمد ۳۸۱ جلد دوم حصہ سوم تھا مگر معترضین اسلام کے لئے اسلام کے مقابلہ میں اس کو تسلیم کرنا گویا اپنے مذہب کی شکست فاش کو تسلیم کرنا تھا۔اس لئے کبھی کسی کو جرات نہ ہوئی کہ اس مقابلہ میں آتا اور اس معیار پر اپنی صداقت مذہب کو پیش کرتا یہ تو دراصل ایک بنیاد تھی اس اقدام کی جو آپ آئندہ کرنے والے تھے۔اصولی طور پر آپ نے ہر قسم کے معترضین کو جواب دیا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ایسے اعتراضات کے جوابات عموماً اخبارات میں شائع ہوتے تھے اور بعض اوقات آپ کے پاس بذریعہ خطوط بھی اعتراضات آتے تھے آپ ان کے جوابات بذریعہ خطوط بھی دیتے تھے۔یہ معترضین اندرونی اور بیرونی ہر قسم کے ہوتے تھے۔یعنی غیر مذاہب کے لوگ بھی اور اسلام کے بعض اندرونی فرقوں کے لوگ بھی۔اس قسم کے خطوط کے جوابات آپ کے مکتوبات میں ملتے ہیں جو میں نے چھاپ دیئے ہیں۔شادی سے قبل تک تو آپ کا سارا وقت اسی مقصد کے لئے وقف تھا لیکن شادی کے بعد نئی قسم کی وہ ذمہ داریاں بھی آپ پر عائد ہوئیں جو ہر متاہل انسان کے لئے ضرور پیش آتی ہیں۔اور آپ کے لئے یہ ذمہ داریاں اس لئے بھی بہت بڑھ کر تھیں کہ اس وقت تک آپ کے خاندان کی رشتہ داریاں ایک خاص طبقہ تک محدود تھیں اگر چہ آپ کے اجداد میں سادات کے خاندان سے بھی لڑکیاں آئی تھیں مگر قریب زمانہ میں اپنے ہی عزیزوں کے ایک خاص طبقہ تک یہ سلسلہ محدود تھا ہ اپنے قومی مراسم اور عادات سے واقف تھے اب ایک نئے خاندان سے تعلقات قائم ہوئے اور سارا خاندان اس کے خلاف تھا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ ذرائع آمد جو خاندانی ملکیت کے تھے وہ فریق مخالف کے قبضہ میں تھے۔اس وقت کی کیفیت کو سمجھنے کے لئے خود حضرت ام المومنین (مَتَّعَنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا) کا بیان کافی ہے۔یہ میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کے ان نشانات اور آیات کو دکھانا ہے جن کے وعدے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندے سے کئے تھے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں۔وہ ”اماں جان نے ایک دفعہ ذکر فرمایا جب تمہارے ابا مجھے بیاہ کر لائے تو یہاں