حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 349
حیات احمد ۳۴۹ شادی کے متعلق ابتدائی تحریک اور ضمنی امور جلد دوم حصہ سوم اوپر کے الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کا روبار اور تحریک حضرت باری عزاسمہ کی طرف سے بطور ایک پیشگوئی اور ایک امر عظیم کے ظہور کے لئے تھی اس کے متعلق میرے لخت جگر عزیزم شیخ محمود احمد عرفانی مجاہد مصر نے اپنی آخری تالیف سیرت اُم المؤمنین میں جو کچھ لکھا ہے میں اسے بھی یہاں درج کرتا ہوں اس لئے کہ وہ بجائے خود مکمل اور مبقرانہ تحقیقات کا نتیجہ ہے اور اس لئے بھی کہ قارئین کرام مرحوم و مغفور کے مدارج قرب الہی کی ترقیات کے لئے دعا کریں اور میں کہوں گا کہ وہ سیرت اُم المؤمنین کو پڑھیں جس سے ان کے ایمان میں ایک بشاشت پیدا ہوگی وہ لکھتے ہیں۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے دوسری شادی کے متعلق خود اپنے ارادے کا اظہار فرمایا۔اس میں سب سے پہلا لفظ جو قابل غور ہے۔وہ میں نے ارادہ کیا ہے“ کا لفظ ہے۔ارادہ عربی لفظ ہے۔قرآن کریم میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔مثلاً قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - فَسُبْحَنَ الَّذِي بِيَدِهِ (سورة يس آیت ۸۴،۸۳) مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔یعنی جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا حکم یہی ہوتا ہے کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔پاک ہے وہ خدا جس کے قبضہ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔پس خدا تعالیٰ جو خالق الاسباب ہے۔وہ ساری کائنات کا مالک و حاکم ہے۔اس کے ارادہ میں کون روک ہو سکتا ہے۔پس اس کا ارادہ ایک تقدیر مبرم اٹل ہے۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں۔مگر اس کا ارادہ ٹل نہیں سکتا۔