حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 348
حیات احمد ۳۴۸ جلد دوم حصہ سوم (نوٹ از عرفانی کبیر) سیرت ام المؤمنین کی جلد اوّل میں حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے خاندان کی عظمت کے متعلق جو تاریخی تحقیقات کی گئی ہے اس کی اصل غرض اور مقصد خدا تعالیٰ کے اس کلام کی صداقت کو ثابت کرنا تھا چنانچہ عزیز مکرم محمود احمد عرفانی مرحوم و مغفور نے جلد اوّل کے صفحہ ۲۵۵ پر ایک خاص عنوان ” میں نے یہ سب کچھ کیوں لکھا “ قائم کر کے صراحت کی ہے اسے مکرر پڑھا جاوے (عرفانی) ایک مرتبہ مسجد میں بوقت عصر یہ الہام ہوا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا۔اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔ہر چہ باید نو عروسی را ہماں ساماں کنم و انچه مطلوب شما باشد عطائے آن کنم اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی کا تعلق بخشا۔سو قبل از ظہور یہ تمام الہام لالہ شرمیت کو سنا دیا گیا۔پھر بخوبی اسے معلوم ہے کہ بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خدا تعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی۔یعنی نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب۔خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا۔اور اس نکاح کے تمام ضروری مصارف تیاری مکان وغیرہ تک ایسی آسانی سے خدا تعالیٰ نے بہم پہنچائے کہ ایک ذرہ بھی فکر کرنا نہ پڑا اور اب تک اسی اپنے وعدہ کو پورے کئے چلا جاتا ہے۔“ بزرگوار ( شحنه حق صفحہ ۵۷، ۵۸۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۸۴،۳۸۳) ترجمہ:۔جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا تمام سامان اُس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتا فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔