حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 334
حیات احمد ۳۳۴ جلد دوم حصہ سوم پر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ ایسے لوگ جو آئندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا ان کے دل میں بھی بدظنی پیدا ہو سکتی وہ براہ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھے کو بذریعہ خط مطلع فرما دیں۔اور میں ان کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اُس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصہ کتاب کے لے کر رو پیدان کے حوالہ کرے۔اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور دشنام دہی کو بھی محض اللہ بخشتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے۔اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو تو چاہئے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے۔وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا اور اگر کسی وارث کے پاس کتاب ہوتو وہ بھی بدستور اس میرے دوست کے پاس روانہ کرے لیکن اگر کوئی کتاب کو روانہ کرے اور یہ معلوم ہو کہ چاروں حصے کتاب کے نہیں ہیں تو ایسا پیکٹ ہرگز نہیں لیا جائے گا جب تک شخص فریسندہ یہ ثابت نہ کرے کہ اسی قدر کتاب ان کو بھیجی گئی تھی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى یہ اشتہار 17 خاکسار غلام احمد - از قادیان ضلع گورداسپور - یکم مئی ۱۸۹۳ء کے آٹھ صفحوں پر ہے ) ( مطبوعہ پنجاب پر لیس سیالکوٹ ) تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۲۹ تا ۳۹۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۳۲۸ تا ۳۳۲ بار دوم ) پھر پانچ سال بعد شہزادہ والا گوہر نے جو پنجاب گورنمنٹ کی سول سروس میں تھے اور حضرت شاہزادہ عبدالمجید رضی اللہ عنہ کے اقارب میں تھے اسی اعتراض کو تحریراً دو ہرایا تو حضرت اقدس نے جواباً لکھا قولہ۔براہین احمدیہ کا بقیہ نہیں چھاپتے۔