حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 333 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 333

حیات احمد ۳۳۳ جلد دوم حصہ سوم کروڑ ہا روپیہ کا چندہ کر کے اس فکر میں ہیں کہ کسی طرح اسلام کو روئے زمین سے نابود کردیں۔ایسے وقت میں اگر اسلام کے حامی، اسلام کے مددگار، اسلام کے غم خوار یہی لوگ ہیں کہ ایسی کتاب کے مقابل پر جو اسلام کے لئے نئے اور زندہ ثبوتوں کی بنیاد ڈالتی ہے اس قدر جزع فزع کر رہے ہیں اور ایک معقول حصہ کتاب کا لے کر پھر یہ ماتم اور فریاد ہے تو پھر اس دین کا خدا حافظ ہے۔مگر نہیں اللہ جل شانہ کو ایسے لوگوں کی ہرگز پرواہ نہیں جو دنیا کو دین پر مقدم رکھتے ہیں نہایت تعجب انگیز یہ امر ہے کہ اگر کسی صاحب کو بقیہ براہین کے نکلنے میں دیر معلوم ہوئی تھی اور اپنا روپیہ یاد آیا تھا تو اس شور و غوغا کی کیا ضرورت تھی اور دغا باز اور چور اور حرام خور نام رکھ کر اپنے نامہ اعمال کے سیاہ کرنے کی کیا حاجت تھی۔ایک سیدھے معاملہ کی بات تھی کہ بذریعہ خط کے اطلاع دیتے کہ براہین کے چاروں حصے لے لو اور ہمارا روپیہ ہمیں واپس کرو مجھے ان کے دلوں کی کیا خبر تھی کہ وہ اس قدر بگڑ گئے ہیں۔میرا کام محض للہ تھا اور میں خیال کرتا تھا کہ گو بعض مسلمان خریداری کے پیرایہ میں تعلق رکھتے ہیں مگر اس پرفتن زمانہ میں للہی نیت خالی نہیں ہیں۔اور للہی نیت کا آدمی محسنِ ظن کی طرف بنسبت بدظنی کے زیادہ جھکتا ہے اگر چہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بدنیتی سے کسی کا کچھ روپیہ رکھ کر اس کو نقصان پہنچاوے مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک مؤلف محض نیک نیتی سے پہلے سے ایک زیادہ طوفان دیکھ کر اپنی تالیف میں تکمیل کتاب کی غرض سے تو قف ڈال دے وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ الله جَلَّ شَانُہ جانتا ہے کہ میرا یہ یقین ہے کہ جیسا کہ میں نے اس توقف کی وجہ سے قوم کے بدگمان لوگوں سے لعنتیں سنی ہیں۔ایسا ہی اپنی اس تاخیر کی جزا میں جو مسلمانوں کی بھلائی کی موجب ہے۔اللہ تعالیٰ سے عظیم الشان رحمتوں کا مورد بنوں گا۔اب میں اس تقریر کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا۔اصل مدعا میرا اس تحریر سے یہ ہے کہ اب میں اُن خریداروں سے تعلق رکھنا نہیں چاہتا جو بچے ارادتمند اور معتقد نہیں ہیں۔اس لئے عام طور ترجمہ:۔اور اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔چه سے وہ