حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 314 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 314

حیات احمد ۳۱۴ جلد دوم حصہ سوم گئے لیکن پھر آگے بڑھ کر آئے اور حضرت سے سلام علیکم کیا اور کہا کہ کیا براہین کا چوتھا حصہ چھپ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں چھپا مگر انشاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا۔اس کے بعد نواب صاحب نے کہا کہ آیئے اندر بیٹھیں۔چنانچہ حضرت صاحب اور نواب صاحب کوٹھی کے اندر چلے گئے اور قریباً آدھ گھنٹہ اندر رہے چونکہ کوئی آدمی ساتھ نہ تھا۔اس لئے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ اندر کیا کیا باتیں ہوئیں۔اس کے بعد حضرت صاحب مع سب لوگوں کے پیدل ہی جامع مسجد کی طرف چلے آئے اور نواب صاحب بھی سیر کے لئے باہر چلے گئے۔مسجد میں پہنچ کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ سب لوگ پہلے وضو کریں اور پھر دو رکعت نماز پڑھ کر نواب صاحب کی صحت کے واسطے دعا کریں کیونکہ یہ تمہارے شہر کے والی ہیں اور ہم بھی دعا کرتے ہیں۔غرض حضرت اقدس نے مع سب لوگوں کے دعا کی اور پھر اس کے بعد فوراً ہی لدھیانہ تشریف لے آئے اور باوجود اصرار کے مالیر کوٹلہ میں اور نہ ٹھہرے۔“ ) سیرت المہدی جلد اول صفحه ۳۱۲٬۳۱۱ روایت نمبر ۳۴۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) عظیم الشان نشان ۱۸۸۴ء اپنے واقعات کے لحاظ سے ایک خاص تاریخی سال سلسلہ کی تاریخ کا ہے۔اُن عظیم الشان واقعات میں ایک وہ واقعہ ہے جو جماعت احمدیہ میں سرخ چھینٹوں کا نشان کے نام سے مشہور ہے۔یہ نشان آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے تعلقات قرب اور معجزات تصرفات خارجیہ میں سے ایک اعجاز ہے۔یہ نشان منشی عبداللہ سنوری رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ظاہر ہوا۔اور وہ اس کے چشم دید گواہ تھے۔اس لئے خود ان کا بیان بلا گم و گاست یہاں درج کر دیا جاتا ہے۔میں صرف یہ کہ کر بھی اس واقعہ کو بیان کر سکتا تھا مگر میری غرض اس تالیف سے یہ ہے کہ پڑھنے والے کو واقعات کے لئے کسی قسم کی مزید تلاش کی ضرورت نہ رہے۔اس نشان کے متعلق مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اعتراض کیا تو حضرت منشی عبداللہ صاحب اس سے اس خاص امر پر