حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 297 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 297

حیات احمد ۲۹۷ مخالفت کے طوفان میں چٹان جلد دوم حصہ سوم میں اسی کتاب کی جلد دوم کے نمبر دوم میں یہ ذکر کر آیا ہوں کہ سب سے اول لودہانہ کے حصہ میں یہ شقاوت آئی کہ اس کے علماء کی ایک شاخ ( جو مولوی عبدالعزیز اینڈ برادرز کے نام سے موسوم تھی ) نے محاذ مخالفت قائم کیا اور لودہانہ ہی وہ مقام ہے جہاں سب سے اول مخلصین کی ایک جماعت قائم ہوئی اور یہی وہ مقام ہے جہاں سلسلہ احمدیہ کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے حکم بیعت کے ماتحت رکھی گئی اور بیعت کا سلسلہ ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء میں جاری ہوا۔میں لود ہانہ کی مخالفت کے اسباب پر اپنی طرف سے نہیں بلکہ مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی کا بیان شائع کر چکا ہوں عجیب بات ہے کہ جیسے لودرہا نہ ہی میں اول المعاونین میر عباس علی صاحب نے اپنے وقتی اخلاص اور ایثار کا ایک نمونہ قائم کیا اور پھر اُسی نے ارتداد کیا مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بھی ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے ابتداء حضرت کے ساتھ کمال اخلاص کا اظہار کیا اور لودہانہ کی اس مخالف جماعت کو بڑی شدومد سے جواب دیا اور پھر اسی لودہا نہ میں اس نے آپ سے ایک تاریخی مباحثہ کیا اور آپ کے کفر کے لئے فتویٰ تیار کیا۔یہ عجائبات مومن کے لئے عبرت و بصیرت کا بہت بڑا سبق ہیں۔غرض جب ان علمائے لو دہانہ نے علم مخالفت بلند کیا تو مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب نے اشاعۃ السنہ کے ذریعہ ان کو دندان شکن جواب دیا اور مخالفت کو کفران نعمت قرار دیا۔اس وقت مخالفت کا حلقہ صرف لود ہانہ اور امرتسر تک محدود تھا۔لودہانہ کے برادرانِ ثلاثہ نے دیو بند وغیرہ سے فتوی کفر حاصل کرنے کی کوشش کی مگر اس وقت کے علماء دیو بند اور گنگوہ نے اس کا جرات سے انکار کر دیا۔اور میں یہ کہوں گا کہ انہوں نے اپنے عمل سے بتایا کہ ان میں خوف خدا اور تقویٰ موجود تھا۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور اپنا فضل کرے کہ انہوں نے اپنے دامن کو آلودہ نہیں کیا۔