حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 296 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 296

حیات احمد ۲۹۶ جلد دوم حصہ سوم پر مجھے ملے اور کہنے لگے کہ آپ کا اور ہمارا اس طرح پر مقابلہ ہو سکتا ہے کہ ایک حجرہ میں ہم دونوں بند کئے جائیں اور دس دن تک بند ر ہیں پھر جو جھوٹا ہو گا مر جائے گا۔میں نے کہا میر صاحب! ایسی خلاف شرع آزمائشوں کی کیا ضرورت؟ کسی نبی نے خدا کی آزمائش نہیں کی مگر مجھے اور آپ کو خدا دیکھ رہا ہے وہ قادر ہے کہ بطور خود جھوٹے کو بچے کے رو بر و ہلاک کر دے اور خدا کے نشان تو بارش کی طرح برس رہے ہیں اگر آپ طالب صادق ہیں تو قادیان میں میرے ساتھ چلیں جواب دیا کہ میری بیوی بیمار ہے میں جا نہیں سکتا۔اور شاید یہ جواب دیا کہ کسی جگہ گئی ہوئی ہے۔یاد نہیں رہا۔میں نے کہا کہ اب بس خدا کے فیصلہ کے منتظر رہو پھر اسی سال میں فوت ہو گئے اور کسی حجرہ میں بند کئے جانے کی ضرورت نہ رہی۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰۷، ۳۰۸) عجیب بات یہ ہے کہ وہ مکتوبات جن میں اس کے ارتداد کے متعلق پیشگوئیاں تھیں خود اس نے جمع کئے اور ایک بیاض میں لکھے اور خود اس کی زندگی میں ہی بعض دوستوں نے اس بیاض سے نقل کر لئے اور مختلف مقامات پر وہ پھیل گئے۔ان مکتوبات کے ایک حصہ کو جو میسر آ گیا تھا۔خاکسار عرفانی نے ۱۹۰۸ء میں شائع کر دیا تھا۔اور میرے پاس اصل مکتوبات کے مسودے میرے مخطوطات میں محفوظ تھے مجھے دکھ اور افسوس ہے کہ وہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں بعض خدا ناترس لوگوں نے میری غیر حاضری میں حفاظت کے نام سے اٹھالئے اور اب تک واپس نہیں کئے باوجود یکہ متعدد مرتبہ میرے کتب خانہ کی واپسی کے متعلق تحریک کی جاچکی ہے۔یہ ذکر ضمنا کرنے پر میں مجبور ہوں چاہئے تو یہ تھا کہ جس شخص نے سلسلہ کے لئے ایک بہت بڑی امانت کو محفوظ کرنے کی کوشش کی اس کی قیمتی متاع کو محفوظ رکھا جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔مجھے افسوس نہ ہوتا اگر ان قیمتی دستاویزات کو سلسلہ کی لائبریری کو دے دیا گیا ہوتا۔میں نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ بادشاہ آئیں گے مگر وہ کسی قیمت پر بھی ان کو جدا نہ کریں کہ یہ سرمایہ برکات ہے۔هر کس از دست غیر ناله کناں سعدی از دست خویشتن فریاد ی تر جمہ:۔ہر شخص غیر کے ہاتھوں یا غیر کی وجہ سے فریاد کرتا ہے۔لیکن سعدی تو اپنے ہی اعمال کی وجہ سے فریاد کناں ہے۔