حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 272
حیات احمد ۲۷۲ جلد دوم حصہ سوم بیرونی حملے ہورہے ہیں نظر اٹھا کر نہ دیکھے جو کچھ آج کل اسلام کی حالت خفیف ہو رہی ہے کسی عاقل پر مخفی نہیں۔یعنی تعلیم یافتہ حقائق حقہ سے دست بردار ہوتے جاتے ہیں۔پرانے مسلمانوں میں صرف یہودیوں کی طرح ظاہر پرستی یا قبر پرستی رہ گئی ہے۔ٹھیک ٹھیک رو بخدا کتنے ہیں ، کہاں ہیں اور کدھر ہیں۔ہر ایک صدی میں کوئی نامی مجد د پیدا ہونا ضروری نہیں۔نامی گرامی مجد دصرف اُسی صدی کے لئے پیدا ہوتا ہے جس میں سخت ضلالت پھیلتی ہے جیسے آج کل ہے۔(۵) پانچواں سوال میں آپ کا سمجھا نہیں۔مجھ سے اچھی طرح پڑھا نہیں گیا۔(۶) حضرت مجد دالف ثانی اپنے مکتوب میں آپ ہی فرماتے ہیں کہ جولوگ میرے بعد آنے والے ہیں جن پر حضرت احدیت کی خاص عنایات ہیں۔اُن سے افضل نہیں ہوں۔اور نہ وہ میرے پیرو ہیں۔سو یہ عاجز بیان کرتا ہے نہ فخر کے طریق پر بلکہ واقعی طور پر شُكْرًا نِعْمَةِ اللهِ کہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے ان بہتوں پر افضلیت بخشی ہے کہ جو حضرت مجد د صاحب سے بھی بہتر ہیں اور مراتب اولیاء سے بڑھ کر نبیوں سے مشابہت دی ہے سو یہ عاجز مجد دصاحب کا پیرو نہیں ہے بلکہ براہِ راست اپنے نبی کریم کا پیرو ہے اور جیسا سمجھا گیا ہے۔بدلی یقین سمجھتا ہے کہ ان سے اور ایسا ہی ان بہتوں سے کہ جو گزرچکے ہیں افضل ہے۔وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ (۷) خدا تعالیٰ کے کلام میں مجھ سے یہ محاورہ نہیں ہے مجھ کو حضرت خداوند کریم محض اپنے فضل سے صدیق کے لفظ سے یاد کرتا ہے اور نیز دوسرے ایسے لفظوں سے جن کے سننے کی آپ کو برداشت نہیں ہو گی اور حضرت خداوند کریم نے مجھ کو اس خطاب سے معزز فرما کر إِنِّي فَضَّلْتُكَ عَلَى الْعَالَمِيْنَ قُلْ أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ أَجْمَعِيْنَ یہ بات بخوبی کھول دی ہے کہ اس ناکارہ کو تمام عالمین تمام روئے زمین کے