حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 271 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 271

حیات احمد ۲۷۱ جلد دوم حصہ سوم اسلامیہ کو نہیں جانچا۔اپنے یقین کا اندازہ معلوم نہیں کیا۔بلکہ اتفاقاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے اور پھر رسوم و عادات کے طور پر لا إِلهَ إِلَّا اللہ کہتے رہے حقیقی یقین اور ایمان بجز صحبت صادقین میسر نہیں آتا۔قرآن شریف تو اس وقت بھی ہوگا جب قیامت آئے گی مگر وہ صدیق لوگ نہیں ہوں گے کہ جو کہ قرآن شریف کو سمجھتے تھے اور اپنی قوت قدسی سے مستعدین پر اس کا اثر ڈالتے تھے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔پس قیامت کے وجود کا مانع صرف صدیقوں کا وجود ہے۔قرآن شریف خدا کی روحانی کتاب ہے اور صدیقوں کا وجود خدا کی ایک مجسم کتاب ہے جب تک یہ دونوں نمایاں انوار ایمانی ظاہر نہیں ہوتے تب تک انسان خدا تک نہیں پہنچتا فَتَدَبَّرُوْا وَتَفَكَّرُوْا۔(۳) اس کا جواب جواب دوم میں آ گیا۔(۴) قرآن شریف مجدد کی ضرورت بتلاتا ہے جیسے میں نے ابھی بیان کیا قال الله تَعَالَى - يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ۔۔اور ایسا ہی حدیث نبوی بھی مجدد کی ضروت بتلاتی ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُلَهَا دِيْنَهَا رواہ ابو داؤد۔اور اجماع سنت و جماعت بھی اس پر ہے۔کیونکہ کوئی ایسا مومن نہیں کہ جو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روگرداں ہو سکتا ہے اور قیاس بھی اسی کو چاہتا ہے کیونکہ جس حالت میں خدا تعالیٰ شریعت موسوی کی تجدید ہزار ہا نبیوں کے ذریعہ سے کرتا رہا ہے اور گو وہ صاحب کتاب نہ تھے مگر مجد دشریعت موسوی تھے اور یہ امت خیر الام ہے۔قَالَ اللهُ تَعَالَى كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس امت کو خدا تعالیٰ بالکل گوشہ خاطر عاطر سے فرمواش کر دے اور باوجود صد ہا خرابیوں کے جو مسلمانوں کی حالت پر غالب ہوگئی ہیں اور اسلام پر - لى الواقعة ٨٠ الحديد ۱۸: الحجر :10: 2 سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما يذكر في قدر قرن المأة هي ال عمران: 111