حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 232 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 232

حیات احمد ۲۳۲ جلد دوم حصہ دوم اللهُ تَعَالَى - يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّالَهُ لَحَافِظُوْنَ اور ایسا ہی حدیث نبوی بھی مجدد کی ضرورت بتلاتی ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُلَهَا دِيْنَهَا۔رَوَاهُ ابو داؤد۔اور اجماع سنت و جماعت بھی اس پر ہے۔کیونکہ کوئی ایسا مومن نہیں کہ جو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روگردان ہو سکتا ہے اور قیاس بھی اسی کو چاہتا ہے کیونکہ جس حالت میں خدا تعالیٰ شریعت موسوی کی تجدید ہزار ہا نبیوں کے ذریعہ سے کرتا رہا ہے اور گو وہ صاحب کتاب نہ تھے مگر مجد دشریعت موسوی تھے اور یہ اُمت خیر الامم ہے۔قَالَ اللهُ تَعَالَى - كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس امت کو خدا تعالیٰ بالکل گوشہ خاطر عاطر سے فراموش کر دے اور باوجود صدہا خرابیوں کے کہ جو مسلمانوں کی حالت پر غالب ہوگئی ہیں اور اسلام پر بیرونی حملے ہورہے ہیں نظر اٹھا کر نہ دیکھے۔جو کچھ آج کل اسلام کی حالت خفیف ہو رہی ہے کسی عاقل پر مخفی نہیں یعنی تعلیم یافتہ عقائد حقہ سے دست بردار ہوتے جاتے ہیں۔پرانے مسلمانوں میں صرف یہودیوں کی طرح ظاہر پرستی یا قبر پرستی رہ گئی ہے ٹھیک ٹھیک رو بخدا کتنے ہیں کہاں ہیں اور کدھر ہیں۔ہر ایک صدی میں کوئی نامی مجدد پیدا ہونا ضروری نہیں نامی گرامی مجد دصرف اسی صدی کے لئے پیدا ہوتا ہے کہ جس میں سخت ضلالت پھیلتی ہے۔جیسے آج کل ہے۔۵۔پانچواں سوال میں آپ کا سمجھا نہیں۔مجھ سے اچھی طرح پڑھا نہیں گیا۔۔حضرت مجد دالف ثانی اپنے مکتوب میں آپ ہی فرماتے ہیں کہ جولوگ میرے بعد آنے والے ہیں جن پر حضرت احدیت کی خاص خاص عنایات ہیں اُن سے افضل نہیں ہوں۔اور نہ وہ میرے پیرو ہیں۔سو یہ عاجز بیان کرتا ہے نہ فخر کے طریق پر بلکہ واقعی طور پر شُكْرًا لِنِعْمَةِ الله کہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے ان بہتوں پر افضلیت ابو داؤد كِتَابُ الْمَلَاحَم - بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي قَدْرِ قَرْنِ الْمِائَةِ -