حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 15 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 15

حیات احمد ۱۵ جلد دوم حصہ اوّل آ جاتا ہے اور آپ گوشہ گزینی سے نکل کر اس طرح پر پبلک میں آ جاتے ہیں اور آریوں کی طرف سے قرآن مجید کی حقانیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات کا مطالبہ ہوتا ہے اور اسی سلسلہ میں متعدد تحریریں آپ کی طرف سے شائع ہوتی ہیں بالآ خر آپ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں کہ ایک مستقل کتاب اس مضمون پر لکھیں اور اس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا انعام مشتہر کریں۔ہندوستان کی مذہبی دنیا میں سب سے پہلا انعامی چیلنج ہندوستان کی مذہبی دنیا میں یہ سب سے پہلا انعامی چیلنج تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا اس سے پیشتر بھی آپ نے آریوں کے لئے بعض انعامات مشتہر کئے تھے اور جیسا کہ میں پہلی جلد میں لکھ چکا ہوں کسی کو مقابلہ میں آنے کی سکت نہیں ہوئی۔آپ کو اپنے دلائل کی حجیت اور قطعیت پر اس قدر یقین تھا کہ آپ نے اتنا بڑا انعام اس کتاب کے لئے مشتہر کیا مگر کسی شخص کو بقیہ حاشیہ: - باوا صاحب نے تو آج تک ان سوالات کا کچھ بھی جواب نہ دیا اور نہ آگے ہم کو امید نظر آتی ہے کہ کوئی صاحب آریہ سماج والوں سے اس بارہ میں دم بھی مارسکیں پس اس صورت میں یہ حق ہم کو پہنچتا ہے ، کہ ہم باوا صاحب سے وید کے بارے میں کہ جس کے اصول ثابت نہ ہو سکے ثبوت مانگیں۔باوا صاحب کا ہرگز استحقاق نہ تھا جو وہ قرآن کے بارے میں کہ جس کے صدق کا نمونہ ظاہر ہو چکا کچھ کلام کرتے۔علاوہ اس کے سب ذی علم جانتے ہیں کہ یہ دستور مناظرہ نہیں ہے کہ سائل کے سوال کا کچھ جواب نہ دیں اور اس پر اُلٹے سوالات کرنے لگیں۔پس بوجوہات بالا ہم پر ہرگز لازم نہ تھا کہ باوا صاحب کے اس سوال پر سوال کرنے کو کچھ قابلِ التفات سمجھتے ہوں۔لیکن چونکہ یہ بھی گمان ہو سکتا ہے کہ شاید باوا صاحب کا ہمارے سوالات کے جواب دینے سے خاموش رہنا اس وجہ سے ہے کہ صاحب موصوف ہمارے سوالات کو لاجواب پا کر اپنے دل میں ہی قبول کر گئے ہیں اور اب حق کے متلاشی ہیں اور بغرض مزید تحقیقات کے کچھ زیادہ ثبوت قرآن مجید کا مانگنے اور وید کے بارے میں باعث ناامید ہو جانے کے کچھ بحث کرنا نہیں چاہتے لہذا ہم نے