حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 222 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 222

حیات احمد ۲۲۲ جلد دوم حصہ دوم بست و یک آئے ہیں اس میں شک نہیں اس الہام پر دو پہر نہیں گزرے ہوں گے کہ اسی روز ایک آریہ کہ جو ڈاک منشی کے پہلے بیان کی خبر سن چکا تھا ڈاک خانہ میں گیا اور اس کو ڈاک منشی نے کسی بات کی تقریب سے خبر کر دی کہ دراصل بست روپے آئے ہیں اور پہلے یونہی منہ سے نکل گیا تھا جو میں نے پانچ روپے کہہ دیا تھا۔چنانچہ وہی آریہ میں روپیہ معہ ایک کارڈ کے جو منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ کی طرف سے تھا لے آیا اور معلوم ہوا کہ وہ کارڈ بھی منی آرڈر کے کاغذ سے نتھی نہ تھا اور نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ روپیہ آیا ہوا تھا اور نیز منشی الہی بخش صاحب کی تحریر سے جو بحوالہ ڈاک خانہ کے رسید کے تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ منی آرڈر ۶ ستمبر ۱۸۸۳ء کو یعنی اُسی روز جب الہام ہوا قادیان میں پہنچ گیا تھا پس ڈاک منشی کا سارا املا انشاء غلط نکلا اور حضرت عالم الغیب کا سارا بیان صحیح ثابت ہوا پس اس مبارک دن کی یادداشت کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی لے کر بعض آریوں کو بھی دی گئ۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْآئِهِ وَنُعَمَائِهِ ظَاهِرِهَا وَبَاطِنِهَا - (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۲۴ تا ۶۲۶ حاشیه در حاشیه نمبر۳) (۱۱) تاریخ نزول حضرت نے نہیں لکھی البتہ مکتوب مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۸۸۳ء میں اس کا ذکر کیا ہے لَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ( ترجمہ ) اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۵۷۷ مطبوعہ ۶۲۰۰۸) (۱۲) (۹/اکتوبر ۱۸۸۳ ء ) رویا۔آج رات کیا عجیب خواب آئی کہ بعض اشخاص ہیں۔جن کو اس عاجز نے شناخت نہیں کیا۔وہ سبز رنگ کی سیاہی سے مسجد کے دروازہ کی پیشانی پر کچھ آیات لکھتے ہیں۔ایسا سمجھا گیا ہے کہ فرشتے ہیں۔اور سبز رنگ ان کے پاس ہے جس سے وہ بعض آیات تحریر کرتے ہیں اور خط ریحانی میں جو پیچاں اور مسلسل ہوتا ہے لکھتے جاتے ہیں تب اس عاجز نے ان آیات کو پڑھنا شروع کیا جن میں سے ایک