حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 218
حیات احمد ۲۱۸ جلد دوم حصہ دوم میں بعض خود جا کر ڈاک خانہ میں خبر لیتے تھے۔بخوبی اطلاع تھی کہ اس روپے کے روانہ ہونے کے بارہ میں جہلم سے کوئی خط نہیں آیا تھا۔کیونکہ یہ انتظام اس عاجز نے پہلے سے کر رکھا تھا کہ جو کچھ ڈاک خانہ سے خط وغیرہ آتا تھا۔اُس کو خود بعض آریہ ڈاک خانہ سے لے آتے تھے اور ہر روز ہر ایک بات سے بخوبی مطلع رہتے تھے اور خود اب تک ڈاک خانہ کا ڈاک منشی بھی ایک ہندو ہی ہے۔غرض جب یہ الہام ہوا تو ان دنوں میں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روز نامچہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا۔اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے۔اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔چنانچہ یہ پیشگوئی بھی بدستور اس سے لکھائی گئی اور اُس وقت کئی آریوں کو بھی خبر دی گئی اور ابھی پانچ روز نہیں گزرے تھے جو پینتالیس روپے کا منی آرڈر جہلم سے آ گیا اور جب حساب کیا گیا تو ٹھیک ٹھیک اسی دن منی آرڈر روانہ ہوا تھا جس دن خدا وند عالم نے اس کے روانہ ہونے کی خبر دی تھی اور یہ پیشگوئی بھی اسی طور پر ظہور میں آئی جس سے بہ تمام تر انکشاف مخالفین پر اس کی صداقت کھل گئی اور اس کے قبول کرنے سے کچھ چارہ نہ رہا کیونکہ ان کو اپنی ذاتی واقفیت سے بخوبی معلوم تھا کہ اس روپیہ کا اس مہینہ میں جہلم سے روانہ ہونا بے نشان محض تھا جس سے پہلے کوئی اطلاعی خطا نہیں آیا تھا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۴۷۵ تا ۴۷۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۵۶۸،۵۶۷) (۵) (۱۲ر جون ۱۸۸۳ء سے چند روز قبل یعنی اوائل جون ۱۸۸۳ء) قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ۔وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ۔یہ اُس زمانہ کی بات ہے۔(عرفانی)