حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 208 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 208

حیات احمد ۲۰۸ جلد دوم حصہ دوم مرزا غلام قادر صاحب کے جواب کی بنیا د ا گر چہ وہی ہے جو حضرت اقدس نے لکھا مگر ان کے جواب کے اسلوب سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت اقدس کی دعاؤں کی قبولیت اور الہامات پر ایمان رکھتے تھے۔غرض کسی دینی ضرورت کے وقت حضرت ان سے کلام کرتے تھے۔مرزا غلام قادر صاحب کی موت کی خبر بذریعہ وحی اور حضرت کی دعا سے اس میں تاخیر ہونا مرزا غلام قادر صاحب کی وفات کی اطلاع اول ہی اول حضرت اقدس کو حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی زندگی میں ہوئی۔آپ نے اس وقت اس قضا کے بدل جانے کے لئے دعا کی اور خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا۔مناسب ہے کہ خود حضرت ہی کے الفاظ میں اس واقعہ کو درج کر دیا جائے۔ایک دفعہ میرے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی نسبت مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ان کی زندگی کے تھوڑے دن رہ گئے ہیں جو زیادہ سے زیادہ پندرہ دن ہیں بعد میں وہ یک دفعہ سخت بیمار ہو گئے یہاں تک کہ صرف استخوان باقی رہ گئیں اور اس قدر د بلے ہو گئے کہ چار پائی پر بیٹھے ہوئے نہیں معلوم ہوتے تھے کہ کوئی اس پر بیٹھا ہوا ہے یا خالی چار پائی ہے پاخانہ اور پیشاب اوپر ہی نکل جاتا تھا۔اور بے ہوشی کا عالم رہتا تھا۔میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی مرحوم بڑے حاذق طبیب تھے انہوں نے کہہ دیا کہ اب یہ حالت یاس اور ناامیدی کی ہے صرف چند روز کی بات ہے مجھ میں اس وقت جوانی کی قوت موجود تھی اور مجاہدات کی طاقت تھی اور میری فطرت ایسی واقع ہے کہ میں ہر ایک بات پر خدا کو قادر جانتا ہوں اور درحقیقت اس کی قدرتوں کا کون انتہا پا سکتا ہے اور اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں بجز ان امور کے جو اس کے