حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 200 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 200

حیات احمد جلد دوم حصہ دوم بھی ہیں۔نواب صاحب بھوپال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ نواب صدیق حسن صاحب بھوپال نے نہایت مخالفانہ خط لکھا۔آپ نے میر عباس علی صاحب کو یہ بھی ہدایت کی کہ جو شخص اپنی رائے کے ساتھ کتاب کو واپس کرے یا لینا منظور نہ کرے یا کتاب اور کتاب کے مؤلف کی نسبت کچھ مخالفانہ رائے ظاہر کرے اس کو ایک دفعہ اپنے وسیع خلق سے محروم نہ کریں۔(۱۵) ۱۱ار جولائی ۱۸۸۳ء میر عباس علی صاحب نے منشی فضل رسول صاحب نامی کسی شخص کے خط کو جو ویدوں کے فضائل کے متعلق تھا حضرت کو بھیجا تھا آپ نے اس کے جواب میں ایک مبسوط خط ویدوں کی حقیقت پر مشتمل لکھا۔اس میں آپ نے اس غیرت قرآنی کا بھی ذکر کیا جو فطر تا آپ کو دی گئی۔آپ نے لکھا کہ ” جب میں نے منشی صاحب کے اس فقرہ کو پڑھا کہ اس میں (یعنے دید میں ) تو بیان توحید ایسا ہے کہ اور کتابوں میں بھی نہیں ہے تو یہ یاد کر کے کہ منشی صاحب نے وید کو تو حید میں بے مثل و مانند قرار دے کر قرآن شریف کی عظمت کا ایک ذرہ پاس نہیں کیا اور دلیری سے کہہ دیا کہ جو وید میں تو حید ہے وہ کسی دوسری کتاب میں نہیں پائی جاتی۔اس فقرہ کے پڑھنے سے عجیب حالت ہوئی کہ گویا زمین و آسمان آنکھوں کے آگے سیاہ نظر آتا تھا۔اللَّهُمَّ اصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ یه عشق و غیرت قرآن کریم کے لئے کیا کسی دوسرے میں پائی جاتی ہے؟ (۱۶) ۲۵ / جولائی ۱۸۸۳ء میر عباس علی صاحب کو براہین احمدیہ کی قیمت جو ان کے پاس آئے خرچ کر لینے کی اجازت دے دی۔یہ وسعت حوصلہ اور فیاضی کا ایک معمولی ثبوت ہے۔مخالفت پر صبر اور تو کل علی اللہ کی نصیحت فرمائی۔(۱۷) یکم اگست ۱۸۸۳ منشی فضل رسول کے اعتراضات کا پھر مبسوط جواب دیا اور قرآن کریم کی تعلیم کے اثرات اور اسلام کی خصوصیات پر پُر شوکت الفاظ میں توجہ دلائی۔اور یہاں تک تحدّی سے لکھا کہ بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ اگر کوئی تَوْبَةُ النَّصوح اختیار کر کے دس روز بھی قرآنی منشاء کے بموجب مشغولی اختیار کرے۔تو اپنے قلب پر نور نازل ہوتا دیکھے گا“۔(۱۸) ۱۹ار اگست ۱۸۸۳ء ایک مبسوط مکتوب میں تبثل تام حاصل کرنے کی حقیقت بیان