حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 186
حیات احمد JAY جلد دوم حصہ دوم مرزا امام الدین وغیرہ کے مشورہ سے آریہ سماج قادیان کی تجدید کی گئی اور مرزا امام الدین منشی مراد علی اور ملا حسیناں وغیرہ لوگ آریہ سماج قادیان کے ممبر بنے اور اس کا مقصد عظیم حضرت اقدس کی مخالفت قرار دیا۔قیام قادیان کے ایام میں لیکھر ام ایک مرتبہ بھی حضرت اقدس کی خدمت میں اظہار خیالات کے لئے حاضر نہ ہوا۔خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔اس خط و کتابت کے لانے لے جانے میں بھائی کشن سنگھ جو حضرت کی ابتدائی تصنیفات میں کیسوں والے آریہ کے نام سے موسوم ہے زیادہ دخل رکھتے تھے۔ان کے ساتھ ہی پنڈت نہال چند بہار دواج۔حکیم دیارام وغیرہ بھی لیکھرام کے معتبر تھے۔لالہ ملاوامل اور لالہ شرمپت رائے اس معاملہ میں خاموش تھے یا کوئی نمایاں حصہ نہیں لیتے تھے اس لئے کہ وہ اپنی متانت کے پہلو کو دیکھتے ہوئے اس طریق بحث کو پسند نہیں کرتے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ مرزا امام الدین کے ہاتھوں میں لیکھر ام کھیل رہا ہے ان کی اس دانشمندانہ بے اعتنائی ہی نے لیکھرام کو جدید آریہ سماج قائم کرنے کا موقع دیا۔بہر حال مجھے دوسروں کی تاریخ اور حالات لکھنے زیر نظر نہیں۔حضرت اقدس سے خط و کتابت شروع ہوئی۔حضرت اقدس کے پاس کبھی کبھی پنڈت موہن لال بہنوت ( جو اس وقت ایک زیرک نو جوان تھا) بھی لیکھرام صاحب کا کوئی رقعہ وغیرہ لے کر چلے جاتے تھے۔چونکہ حضرت اقدس کے خاندان کے ساتھ ان کے خاندان کے قدیم تعلقات چلے آتے ہیں حضرت اقدس پنڈت موہن لال صاحب کو بھی جب وہ جاتے خالی نہ آنے دیتے تھے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور دے دیتے تھے پھل وغیرہ یا شکر ( جو نہایت عمدہ آتی تھی اس زمانہ میں یہ خاص تحفہ ہوتا تھا)۔پنڈت موہن لال کا بیان پنڈت موہن لال نے (جن کے خاندان کے ساتھ میرے بھی دوستانہ مراسم اُن کے باپ کے وقت سے چلے آتے ہیں) مجھ سے ان ایام کے واقعات کو دوہراتے ہوئے ہمیشہ کہا کہ حضرت صاحب بڑی مہربانی فرماتے تھے اور ہمیشہ ہنستے ہوئے ملتے اور کبھی خالی ہاتھ آنے نہ