حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 185
حیات احمد ۱۸۵ جلد دوم حصہ دوم گا کہ میں نشان دیکھنے کے لئے گیا تھا مجھے کوئی نشان نہیں دکھایا گیا مگر کافروں کے مکائد آخر ان کی ہی ہلاکت کا موجب ہو جاتے ہیں۔قادیان آنے کے محرکات مرزا امام الدین کی کارستانیاں چوبین سوار و پیہ کا اشتہار لیکھر ام کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھا کہ اس مقابلہ میں آنے سے میری عزت و عظمت کا اظہار ہو جائے گا۔خط و کتابت سے بات طے نہ ہوئی تو وہ نومبر کے آخری عشرہ میں غالباً ۱۹/ نومبر ۱۸۸۵ء کو قادیان آیا۔( یہ تاریخ لیکھر ام کے ایک خط سے معلوم ہوتی ہے جو اس نے ۱۳؍ دسمبر ۱۸۸۵ء کو حضرت کی خدمت میں لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ مجھے آج یہاں چھپیں یوم کا عرصہ گزر گیا۔(عرفانی) قادیان آنے کا محرك تو یہی اعلان اور وہ سلسلہ خط و کتابت تھا مگر اس کے عمل میں آنے کا جلد امکان نہ تھا لیکن اسے مرزا امام الدین صاحب نے قریب کر دیا۔مرزا امام الدین صاحب حضرت کے چچا زاد بھائی تھے ان کی طبیعت پر دہریت والحاد کا غلبہ تھا اور حضرت کی مخالفت ان کا روزانہ شغل۔ان کو جب معلوم ہوا کہ لیکھر ام اس قسم کی خط و کتابت کر رہا ہے تو ان کو ایک عجوبہ ہاتھ آ گیا اورلیکھرام کو ایک آلہ کار بنا کر انہوں نے اپنی حاسدانہ مخالفت کے کام کو سرانجام دینا چاہا۔چنانچہ وہ خود گئے اور لیکھرام کو اپنے ساتھ قادیان لے آئے۔طبیعتوں میں کچھ مناسبت ہوتی ہے لیکھرام کی طبیعت میں بیہودہ گوئی استہزاء اور تمسخر تھا مرزا امام الدین صاحب بھی اپنی طبیعت میں اسی قسم کا رنگ رکھتے تھے اور خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو کا معاملہ ہو گیا۔مرزا امام الدین کی مجلس میں بھنگڑ اور چرس پینے والے لوگ جمع ہوتے اور دینی باتوں کی ہنسی اڑانا اور لغو اعتراضات کرنا جیسا کہ ابا حتی فقیروں کا شیوہ ہے اس مجلس کا کام ہوتا تھا اور اب انہیں ایک پالتو طوطا ہاتھ آ گیا۔لیکھرام کو انہوں نے سر پر اٹھایا اور اپنے اڈے پر لگا لیا تا کہ وہ پوری شوخی اور بے باکی سے کام لے۔