حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 164 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 164

حیات احمد ۱۶۴ جلد دوم حصہ دوم راقم الحروف کو بھی کئی دفعہ یہ سعادت نصیب ہوئی۔اس کے بعد پھر ایک اور چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں دو تین صفیں ہو جاتی تھیں یہ حجرہ بھی ایک دروازہ رکھتا تھا اور اس میں بھی گویا تین ہی دروازے تھے ایک شمالی دروازہ جو بیت الفکر میں کھلتا تھا ایک جنوبی دریچہ جوخر اس خانہ میں کھلتا تھا اور تیسرا وہ دروازہ جو مشرق کی طرف کھلتا تھا اس کے بعد ایک اور آخری درجہ تھا جس میں ایک دروازہ سیڑھیوں کی طرف سے آتا تھا اور ایک سیڑھیوں کے پاس گھر میں جاتا تھا اور تیسرا اس کو ٹھڑی میں کھلتا تھا جو اس نشان کے لئے مشہور ہے جو سرخ سیاہی کے چھینٹوں کا نشان ہے۔یہ حجرہ اس وقت نیچا تھا کوئی دوفیٹ کے قریب نشیب میں تھا اور یہاں وضو کے لئے سامان رہتا تھا۔اسی میں ایک لکڑی کا زینہ ہوتا تھا جس کے ذریعہ سے موسم گرما میں اوپر نماز پڑھنے کے لئے چڑھتے تھے۔اس مسجد کے دونوں دروزاوں پر الہامات و درود شریف اور آیت اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : ۲۰ لکھی ہوئی تھی۔یہ باتیں میں الگ بیان کروں گا الہامات وہ درج تھے جو اس مسجد مبارک کے متعلق ہوئے ہیں اور جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔مسجد کی تاریخ تعمیر مسجد کے متعلق جہاں تک تحقیقات سے پتہ چلتا ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جون یا جولائی ۱۸۸۳ء میں تعمیر کا کام جاری تھا اس لئے کہ آپ ۳۰ / اگست ۱۸۸۳ء کے ایک مکتوب میں جو میر عباس علی شاہ صاحب لود بانوی کے نام لکھا گیا ہے تحریر فرماتے ہیں کہ :۔مسجد کا زینہ طیار ہو گیا ہے عجیب فضل الہی ہے کہ شاید پرسوں کے دن (اس سے ۲۷ اگست ۱۸۸۳ء کی تاریخ پائی جاتی ہے۔عرفانی ) یعنی بروز دوشنبہ مسجد کی طرف نظر کی گئی تو اسی وقت خدا وند کریم کی طرف سے ایک اور فقرہ الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔