حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 163
حیات احمد ۱۶۳ جلد دوم حصہ دوم ہے اسی جگہ مرزا غلام محی الدین مرحوم حضرت کے چچا کا خراس تھا۔ان کی وفات کے بعد اس کی چھت وغیرہ گر گئی اور اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کی نوبت نہ آئی۔جب حضرت نے مسجد مبارک کی تعمیر کا ارادہ فرمایا تو وہ ایک کھنڈر تھا آپ نے اس کی شمالی دیوار اور گھر کی جنوبی دیوار پر چھت ڈال کر اس کو چہ کو مسقف کر لیا اور اس کی چھت کو مسجد مبارک کا فرش قرار دے کر تعمیر کا کام شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مالی حالت اس وقت بہت کمزور تھی نیچے کی چھت کے لئے دیسی لکڑی وغیرہ جو باغ وغیرہ سے کاٹی گئی ڈال دی گئی اور اوپر کی چھت پر وہی لکڑی استعمال ہوئی اس کے لئے اینٹوں کو مہیا کرنے کے واسطے عام طور پر پرانی بنیادوں کو کھود کر اینٹیں نکلوائی گئیں۔پیراں دیتا ایک معمار جو علی العموم اس خاندان کے تعمیری کام کیا کرتا تھا اس کی تعمیر کے لئے مقرر ہوا اور کام شروع ہو گیا جن لوگوں نے اس مسجد کو دیکھا ہے وہ اسے دیکھ کرسمجھ سکتے ہیں کہ کس محنت سے اس کام کو شروع کیا گیا ہو گا ایک طرف مالی مشکلات تھیں دوسری طرف عم زاد بھائیوں کی مخالفت تھی اس لئے کہ ان کی ایک دیوار پر چھت ڈالی جارہی تھی اور اس کھنڈر کی طرف ایک کھڑ کی رکھی جا رہی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ اس مسجد کے متعلق سہولتوں کا وعدہ فرمایا تھا ہر قسم کی سہولتیں میتر کر دیں اور تعمیر کا کام بآسانی ہوتا چلا گیا اور آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ مسجد مکمل ہو گئی۔مسجد کی صورت مسجد کی صورت یہ تھی کہ آخری مغربی سرے پر امام کے لئے محراب کا حجرہ تھا اس میں ایک کھڑ کی مغرب کی طرف ایک شمال کی جانب اور ایک مشرقی دروازہ تھا جس میں تختہ لگا ہوا تھا اور ضرورت کے وقت وہ بند ہو کر حجرہ بن جاتا تھا۔اس حجرہ میں دو آدمیوں کی گنجائش تھی۔اولاً صرف امام ہی کھڑا ہوتا تھا لیکن جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو حضرت اقدس بھی وہاں کھڑے ہو جاتے تھے اور کبھی کبھی اوائل زمانہ میں حضرت مخدوم الملۃ رضی اللہ عنہ کسی دوست کو جو نماز کے وقت ان کے پاس ہو ساتھ کھڑا کر لیتے تھے۔