حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 7
حیات احمد L جلد دوم حصہ اوّل پہنچ گئی تھی کہ اسلام پر چاروں طرف سے حملے شروع ہو گئے تھے۔عیسائی اپنی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ حملے کر رہے تھے۔اب آریوں کے جدید فرقہ نے ان کو مدد دی اور وہ ایک دوسری طرف سے حملہ آور ہوئے۔برہمنوں نے مسئلہ وحی اور نبوت کا انکار کیا۔ان حملوں کی ذرہ بھی پرواہ نہ ہوتی اگر مسلمانوں کی اندرونی حالت درست ہوتی مگر وہ دن بدن قابل افسوس ہو رہی تھی۔سرسید کی تحریک مذہبی نکتہ خیال سے مضر اثر پیدا کر رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے (جن کو اس وقت کسی قسم کا دعوئی نہ تھا بلکہ وہ ایک عام مسلمان کی زندگی بسر کرتے تھے )ان حالات کو دیکھ کر ایک دردمند اور غیور مسلمان کی طرح حمایت اسلام پر کمر باندھی۔وہ اس بات سے قطعاً ناواقف تھے کہ یہ تمام تحریکات آسمانی اور ربانی تحریک کا نتیجہ ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں کسی امر عظیم کے لئے مامور کرنا چاہتا ہے۔آپ نے ان حالات کا مطالعہ کر کے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام مذاہب باطلہ کی تردید اور اسلام پر ہر قسم کے اعتراضات کے جوابات کو نہایت معقول اور مدلل طور پر دینے کے لئے بلکہ تائیدات سماوی اور شواہد آسمانی کے ذریعہ صداقت اسلام ظاہر کرنے کے لئے یہ عزم فرمایا کہ ایک مبسوط کتاب لکھی جاوے۔یہی براہین احمدیہ کی تالیف کی ابتدائی تحریک تھی۔کچھ شک نہیں براہین احمدیہ کی تصنیف کے محرکات خارجی یہی مباحثات تھے مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ مباحثات بھی ربانی تحریک کا نتیجہ تھے۔اس سلسلہ نے آپ کو گوشئہ خلوت سے باہر نکالا اور اس عظیم الشان کام کے لئے تیاری اور تربیت شروع ہوئی جو آپ کے سپرد ہونے والا تھا۔ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت قادیان کوئی ایسی مُشَار الیہ بستی نہ تھی کہ لوگ مباحثہ کرنے کے لئے یہاں آتے یا قادیان سے نکلتے ہوئے مضامین پر توجہ کر سکتے۔اس وقت کے اسلامی مذہبی لیڈروں میں حضرت مرزا صاحب کا نام تک بھی نہ آتا تھا کہ یکا یک ایسی ہوا چلی کہ ان مضامین نے مذہبی میدانِ جنگ میں ایک نئی حرکت پیدا کر دی اور تمام لوگوں کی توجہ کو بدل دیا اور جب پنڈت دیانند جی اور دوسرے آریہ مناظر اس میدان میں نہ ٹھہر سکے تو