حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 6
حیات احمد ۶ جلد دوم حصہ اول سال سے زیادہ عمر کا نہ تھا اور آج سے پچاس برس پیشتر کے اخبارات اور شائع شدہ تحریرات کو حاصل کرنا بھی آسان نہ تھا مگر خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اپنی اس سعی میں نا کام نہیں رہا اور میں اسے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اعجاز سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے حالات زندگی کی تدوین و ترتیب کے لئے جس سامان کی ضرورت تھی اسے بہت بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ایک طرف مسیح ناصری ہیں کہ ان کی حیات کے اوراق منتشر بلکہ کہنا چاہئے گم ہیں۔اور دوسری طرف مسیح محمدی ہے کہ اس کی زندگی کے واقعات اور حالات کی حفاظت کا خدا تعالیٰ نے خارق عادت سامان مہیا کر دیا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔اس لحاظ سے صحیح موعود علیہ السلام کو مسیح ناصری علیہ السلام پر تاریخی شخصیت کے لحاظ سے بھی فضیلت حاصل ہے۔براہین احمدیہ کی تصنیف کی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی چہل سالہ حالات زندگی میں یہ امر نمایاں ہے کہ آپ ایک غیور فطرت لے کر آئے تھے اسلام کی حقانیت کے اثبات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی حفاظت اور قرآن مجید کی اعجازی قوتوں کے اظہار کے لئے آپ ایک خارق عادت علمی اور عملی جوش رکھتے تھے۔کوئی موقعہ اور مرحلہ آپ کی زندگی میں ایسا نہیں نظر آتا کہ آپ صف اول میں نہ کھڑے ہوں باوجود اس کے کہ آپ ایک ایسے گاؤں میں رہتے تھے جہاں عام واقفیت اور علمی معلومات کے بڑھانے کا کوئی موقعہ نہیں تھا آپ ان تمام حالات سے واقفیت رکھتے تھے جو مذہبی دنیا میں پیدا ہورہے تھے اور ہر مذہبی تحریک کا اس نظر سے مطالعہ کرتے تھے کہ وہ کس حد تک اسلام سے تصادم کرنے والی ہے۔اور جہاں آپ کو معلوم ہوتا کہ کوئی تحریک اسلامی عقیدہ یا تعلیم سے ٹکر کھاتی ہے آپ فوراً اصول اسلام کی صیانت کے لئے شمشیر قلم لے کر میدان میں نکل آتے اور اس طرح پر اخبارات کے ذریعہ ان اعتراضات اور ان کے جوابات دینے میں مصروف نظر آتے ہیں۔نوبت یہاں تک